BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 July, 2006, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل زاہد علی اکبر کے سمن جاری

نیب کے مطابق زاہد علی اکبر کے ستتر بینکوں کھاتوں میں سترہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جمع ہیں
منگل کو لاہور کی ایک احتساب عدالت نے واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) زاہد علی اکبر کے خلاف دائر شدہ ایک ریفرنس میں انہیں پانچ اگست کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

لاہور میں احتساب عدالت کے جج شفقات احمد ساجد کی عدالت میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے سوموار کو ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل اور سابق کور کمانڈر راولپنڈی زاہد علی اکبر کے خلاف بدعنوانی کا ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

لاہور کے رہائشی لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر اس وقت ملک سے باہر ہیں۔

اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ زاہد علی اکبر نے انیس سو ستاسی سے انیس سو بانوے تک جب وہ چیئرمین واپڈا اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تھے تو وہ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث رہے۔

احتساب بیورو کے پریس ریلیز کے مطابق ان کے خلاف جو شواہد اکھٹے کیئے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ زاہد علی اکبر کے ستتر بینک کھاتوں میں سترہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جمع ہیں۔

یہ بینک کھاتے یا تو زاہد علی اکبر کے اپنے نام، یا ان کے قریبی رشتہ داروں یا ان کی مختلف بزنس کمپنیوں کے نام ہیں۔

ان کے علاوہ زاہد علی اکبر نے انیس سو تراسی سے انیس سو اٹھانوے تک سات لاکھ چھ ہزار دو سو ڈالر جو چھالیس روپے فی ڈالر کی قیمت سے تین کروڑ چوبیس لاکھ روپے بنتے ہیں ملک سے باہر منتقل کیئے۔

احتساب بیورو کے مطابق یہ اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس کے علاوہ احتساب بیورو نے اس ریفرنس میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ’ملزم‘ کا رہن سہن بھی ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد