نصرت بھٹو ریفرنس دوبارہ کھل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی احتساب عدالت نے بیگم نصرت بھٹو کے خلاف کیس کی سماعت پانچ سال کے وقفہ کے بعد شروع کردی ہے۔ لاہور کی احتساب عدالت نے پیپلزپارٹی کی سابق سربراہ اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوی نصرت بھٹو کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کے الزام پر مبنی ایک ریفرنس کی سماعت پانچ سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع کردی ہے۔ آج جج نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب میں محمد الیاس سے کہا کہ وہ عدالت کو اگلی سماعت پر بتائیں کہ نصرت بھٹو کی جائداد کی ضبطی کا جو حکم دیا گیا تھا تو کیا وہ ضبط کی گئی یا نہیں، اس کی کیا حیثیت ہے اور نصرت بھٹو کہاں ہیں؟ نصرت بھٹو پر قومی احتساب بیورو کی جانب سے ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز (سو ارب روپے سے زیادہ) کے غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں احتساب عدالت نے نصرت بھٹو کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔ تاہم نصرت بھٹو کے احتساب عدالت پیش نہ ہونے پر عدالت کے جج منیر شیخ نے انہیں دانستہ غیر حاضری کے الزام میں دو سال قید کی سزا سناتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔ احتساب عدالت نے اس ریفرنس میں لاہور اور کراچی پولیس کے ایس ایس پی کو ان کی جائداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا اور اکتوبر سنہ دو ہزار میں اس ریفرنس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی تھی۔ تاہم احتساب عدالت کے جج رانا زاہد محمود، جن کے پاس یہ ریفرنس زیر التوا ہے، نے اس ریفرنس کو دوبارہ کھول کر فریقین کے وکلا کو آج طلب عدالت میں طلب کیا تھا۔ جج نے دوران سماعت یہ بات کہی کہ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قوم کے کروڑوں روپے کھالے اور ملک سے چلا جائے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ دانستہ روپوشی کی سزا دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||