BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 January, 2004, 17:31 GMT 22:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
140 ارب روپے کی وصولی، نیب کا دعوٰی

نیب
قومی احتساب بیورو انیس سو ننانوے میں قائم کیا گیا تھا

پاکستان کے قومی احتساب بیورو کا دعوٰی ہے کہ اس نے اب تک لوٹی ہوئی قومی رقم میں سے ایک سو چالیس ارب روپے وصول کر لئے ہیں ،جن میں دو ارب روپے ملزمان سے ’سودے بازی‘ کے نتیجے میں وصول کیے گیے ہیں۔

سرکاری عہدیداروں سے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کردہ رقوم کو واپس لانے کے لیے قومی احتساب بیورو یا نیب انیس سو ننانوے میں قائم کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس جنرل نیب کی سربراہی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ قومی احتساب بیورو نےاب تک بانوے ارب کی بلاواسطہ وصولیاں کی ہیں۔ اس کے علاوہ پچاس ارب روپے کی بلواسطہ وصولیاں بھی کرائی گئی ہیں جن میں مختلف سر کاری محکموں کے بقایا جات اور بینکوں کے ڈوبے ہوئے ‍قرضے ہیں جو ملک کے با اثر سیاستدان اور صعنت کار بینکوں سے حاصل کرنے کے بعد واپس کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

قومی احتساب بیورو کے اب تک کے بڑے شکاروں میں ایڈمرل منصورالحق بھی شامل ہیں جنہیں کراچی کی ایک احتساب عدالت نے جمعرات کو سات سال کی سزا سنائی ہے۔ اس سے پہلے منصور الحق کو، جنہیں امریکہ سے پاکستان لایا گیا تھا، سات ملین ڈالر کے عوض رہائی ملی تھی لیکن ان کو دوبارہ ایک دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

منصور الحق کو، جو پاکستان بحریہ کے سربراہ رہے ہیں، شکایت ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے کیونکہ حکومت نے سات ملین ڈالر کے عوض ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے ان کو تمام جرائم سے مبرا قرار دیا تھا۔

پاکستان کا احتسابی عمل ہمیشہ سے متضاد رہا ہے اور الزام لگتے رہے ہیں کہ یہ یکطرفہ ہے۔ احتساب کا عمل کا، جسے شروع کرتے ہوئے دعوٰی کیا گیا تھا کہ بیرونی ملکوں میں چھپائےگئے سینکڑوں ارب ڈالر واپس لائے جائیں گے، یہ دعٰوی پورا نہیں ہو سکا اور منصور الحق کی طرف سے سرکاری خزانےمیں جمع کرائے جانےوالے سات میلن ڈالر کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔

ان سات ملین ڈالر میں سے دو ملین ڈالر اس امریکی ادارے کو ادا کر دئیے گئے ہیں جس نے منصور الحق کی امریکہ میں گرفتاری اور بعد میں پاکستان منتقلی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

قومی احتساب بیورو جو وصولیاں کرتا ہے وہ ایک میہنہ تک اپنے اکاؤنٹ میں رکھنے کے بعد سرکاری خزانے میں جمع کرادیتا ہے، لیکن ایسی وصولیاں جو احتساب بیورو سرکاری محکوں کے‏غیر ادا شدہ واجبات کی شکل میں وصول کرتا ہے وہ متعلقہ محکمے کو چلی جاتی ہیں۔

قومی احتساب بیورو پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ وصولیوں کا تمام حصہ سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتا ۔ لیکن نیب کے اہلکار اس بارے میں بتانے سے گریز کرتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے دائرہ کار میں پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ لوگ بھی آتے ہیں لیکن ابھی تک سینکڑوں سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کے مقابلے میں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ حاضر سروس فوجی احتساب بیورو کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔

اب تک جن ریٹائرڈ فوجی افسران کے خلاف مقدمے بنے ہیں ان کی تعداد دو درجن سے زیادہ نہیں ہے اور ان میں بھی اکثر پاکستان بحریہ اور پاکستان فضائیہ کے لوگوں کی ہے۔ ان میں وائس ائر مارشل وقار عظیم اور ایڈمرل منصور الحق سب سے نمایاں ہیں۔ وقار عظیم کو نیب عدالت سے سزا ہوئی تھی لیکن بعد میں ان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے معاف کر دیا اور وہ جیل سے باہر خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

احتساب بیورو نے پہلے میاں نواز شریف خاندان کے خلاف بھی کافی مقدمات بنائے تھے لیکن بعد میں ایک معاہدے کے تحت شریف خاندان کے تمام ممبران کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی اور ان کے خلاف تمام مقدمات بند کر دئیے گئے۔اسی طرح اس ادارے نے پاکستان کے دوسرے بڑے امیر خاندان ، چوہدری شجاعت حسین کے خلاف بھی انکوائریاں شروع کی تھیں لیکن فوجی حکومت سے سیاسی تعاون کے بدلے میں اس خاندان کے کسی فرد کے خلاف کوئی مقدمہ شروع نہیں کیا گیا۔

اس ادارے کا ایک اور بڑا نشانہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری ہیں لیکن تمام کوششوں کے باوجود ان کو ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد