بدعنوانی کا الزام: (ر) بریگیڈئرگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قومی احتساب بیورو یعنی ’نیب‘ نے بدھ کی شام فوج کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تیرہ کروڑ ستر لاکھ روپے ( چوبیس لاکھ ڈالر) کی مبینہ بدعنوانی میں بریگیڈئر حامد محمود کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس بارے میں نیب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے نظام پور سیمنٹ پلانٹ کو دھوکہ دہی سے تیرہ کروڑ ستر لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ سمینٹ پلانٹ ریٹائرڈ فوجیوں کی بہبود کے لیئے قائم ایک ادارے کی ملکیت ہے اور حامد محمود اس میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ لیکن نیب کا کہنا ہے کہ یہ بدعنوانی انہوں نے ذاتی حیثیت میں اپنے نجی کاروبار کی وجہ سے کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ یہ کارروائی نیب راولپنڈی نے کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ چھان بین کے بعد مقدمہ درج کرکے ان کا چالان عدالت میں پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ پہلے بھی نیب نے متعدد ریٹائرڈ فوجیوں کو بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار کیا تھا۔ جن میں سے بعض کو تفتیش کے مرحلے ہی میں چھوڑ دیا گیا اور کچھ کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ نیب کے متعلق حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ یہ حکومت کا ایک ایسا آلہ ہے جسے وہ سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی ہے لیکن حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ | اسی بارے میں 140 ارب روپے کی وصولی، نیب کا دعوٰی09 January, 2004 | پاکستان نیب کا ڈرامہ21 July, 2004 | پاکستان نیب: تقریباً ڈھائی ارب روپے برآمد کیے09 December, 2004 | پاکستان بدر: نیب ریفرنس پر فیصلہ ملتوی26 April, 2005 | پاکستان چینی کی گرانی، نیب تحقیقات ختم13 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||