سپریم کورٹ نے حسبہ بل روک دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی درخواست پر صوبہ سرحد کی اسمبلی سے منظور کردہ متنازعہ حسبہ بل کو قانون بنائے جانے کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ جمعہ کی صبح چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو حکم دیا کہ وہ صوبہ سرحد کے چیف سیکرٹری کے ذریعے گورنر کو مطلع کریں کہ وہ عدالت کے حتمی فیصلے تک حسبہ بل پر دستخط نہ کریں۔ عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ اس فیصلے کے بارے میں صوبہ سرحد کی اسمبلی کے سپیکر اور ایڈوکیٹ جنرل کو بھی آگاہ کردیں۔ سپریم کورٹ کے بڑے بینچ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے بھیجے گئے صدارتی ریفرنس پر جمعہ کو یہ حکم جاری کرنے کے بعد مزید سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔ عدالت نے جب سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ سن دوہزار پانچ میں بھی جب حسبہ بل سرحد اسمبلی سے منظور کیا گیا تو اس کی کئی شقوں کو سپریم کورٹ نے آئین سے متضادم قرار دیا تھا۔ لیکن صوبہ سرحد میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت نے بعض شقیں جو سپریم کورٹ خلاف آئین قرار دے چکی ہے، شامل کرکے دوبارہ منظور کرایا ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ حسبہ بل پر عمل درآمد روکا جائے اور منع نامہ جاری کیا جائے۔ چیف جسٹس کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر یہ بل اسمبلی کو واپس اس لیے نہیں کرسکتے کیونکہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت نے اس بل کو ’منی بل‘ یعنی مالیاتی بل کے طور پر منظور کرایا ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ سرحد کی حکومت کے منظور کرائے گئے حسبہ بل کے تحت صوبے میں ’غیر اسلامی شعائر‘ کے خلاف حسبہ یا احتساب کا محکمہ بنایا جانا ہے۔ جس کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ بُرائی اور غیر اسلامی حرکات کو روکنے کے لیے متعلقہ افراد کو خود سے سزائیں دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں جب طالبان کی حکومت تھی تو انہوں نے مردوں کو داڑھی نہ رکھنے، نماز نہ پڑھنے اور خواتین کو جسم اور چہرہ نہ ڈھانپنے کے الزامات میں حسبہ قانون کے تحت سرعام سزائیں دینا شروع کی تھیں۔ صوبہ سرحد کی حکومت کے منظور کردہ اس بل سے خدشہ تھا کہ اس سے صوبہ سرحد میں طالبان کے طرز احتساب کو فروغ ملے گا اور اسی خطرے کے پیش نظر ہی صدر جنرل پرویز مشرف نے عدالت اعظمیٰ کو ریفرنس بھیجا۔ بعض سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ آئندہ برس انتخابات کے انعقاد کی وجہ سے مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ایسے اقدامات کرانا چاہتی ہے جس سے یہ تاثر دے سکے کہ انہوں نے صوبے میں اسلامی نظام رائج کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ دوبارہ ووٹ حاصل کرسکے۔ لیکن سرحد حکومت کے نمائندے اس تاثر کو رد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ حسبہ بل محض سیاسی مقاصد کی خاطر نہیں بلکہ اپنے نظریات کی تکمیل کے لیے نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی صوبے نے قانون بنایا ہو اور صدر کو اس کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے دو مرتبہ رجوع کرنا پڑا ہو۔ | اسی بارے میں حسبہ بل، حکومت مخمصے میں14 December, 2006 | پاکستان ’حسبہ بل کا نفاذ فوراً روکا جائے‘10 December, 2006 | پاکستان پشاور میں حسبہ بل کے خلاف احتجاج 16 November, 2006 | پاکستان صوبہ سرحد:حسبہ بل دوبارہ منظور 13 November, 2006 | پاکستان صوبہ سرحد:حسبہ بل دوبارہ منظور 13 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||