BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 November, 2006, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوبہ سرحد:حسبہ بل دوبارہ منظور

سرحد اسمبلی
بل کے دو بارہ پیش ہونے پر اسمبلی میں گرما گرم بحث ہوئی
چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے ترمیم شدہ متنازعہ حسبہ بل میں سات ترامیم کے ساتھ ایک بار پھر سرحد اسمبلی سےاکثریت رائے سے منظور کرالیا ہے ۔

اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں نےاسمبلی سے بائیکاٹ کیا۔

پیر کو سرحد اسبملی کا اجلاس سپیکر بخت جہان خان کی صدارت میں شروع ہوا تو صوبائی وزیر قانون ملک ظفراعظم نے حسبہ بل منظوری کےلیے ایوان میں پیش کیا۔

اس موقع پراپوزیشن جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز ، پی پی پی شیرپاؤ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بل کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ بل میں ترمیم کےلیے اسے سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ تاہم اس سلسلے میں جب سپیکر نےایوان سے رائے طلب کی تو حزب اختلاف کے مطالبے کو ایوان نے مسترد کر دیا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی سے واک اؤٹ کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بل کی حمایت کی۔

بل میں ترمیم کےلیے ارکان اسمبلی اکرام اللہ شاہد، پیرمحمد خان اور اسرار اللہ گنڈاپور کو مجموعی طورپر 69 ترامیم پیش کرنی تھی تاہم اکرم اللہ شاہد نے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تمام ترامیم واپس لے لیں۔ بعد میں ایوان نے بل میں تجویز کی گئی سات ترامیم منظور کرلی جبکہ تین ترامیم اراکین نےواپس لےلی۔
بعد میں سپیکر نے جب بل منظوری کےلیے ایوان کے سامنے پیش کیا تو آراکین اسمبلی نے اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس موقع پر حکومتی اراکین اسمبلی نے زور زور سے ڈیسک بجاکر بل کی منظوری پر خوشی کا اظہار کیا۔

’مولویوں کا مارشل لا نا منظور‘
 نگہت اورکزئی نے بل کی منظوری کے بعد اپنی سیٹ پر کھڑے ہوکر بلند آواز میں ’ مولویوں کا مارشل لا نامنظور نامنظور ‘ کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئیں۔

اس موقع پر مسلم لیگ(ق) کی خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کے علاوہ ایوان میں اپوزیشن کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔نگہت اورکزئی نے بل کی منظوری کے بعد اپنی سیٹ پر کھڑے ہوکر بلند آواز میں ’ مولویوں کا مارشل لا نامنظور نامنظور ‘ کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک اؤٹ کرگئیں۔

بل کی منظوری کے وقت ایوان میں اپوزیشن کے چھ ، 63 حکومتی اراکین اور پانچ آزاد ارکان اسمبلی موجود تھے۔

بل کی منظوری کے بعد وزیراعلی سرحد اکرام خان درانی نے ایوان سے مختصر خطاب میں کہا:’ اس قانون کے ہر فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔ ہم خود قانون کا احترام کرتے ہیں۔ اگر اس معزز ایوان میں بیٹھ کر بھی ہم قانون کا احترام نہیں کریں گے تو وہاں دیہات میں بیٹھے عام لوگ قانون کا کیا احترام کرینگے۔‘

اس سے قبل بل پر بحث کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلمیانی لیڈر بشیراحمد بلور، پی پی پی کے عبدالاکبر خان، پی پی شیرپاؤ کے سکندر خان شیرپاؤ اورمتحدہ حزب اختلاف کے قائد شہزادہ گستاسب خان نے کہا کہ اس بل سے مولویوں کو نوکریاں دی جائیں گی اور متوازی عدلیہ اور انتظامیہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بل پر سپریم کورٹ کے اعتراضات ہیں اور اس میں دس ایسی شقیں ابھی بھی شامل ہیں جو بقول ان کے عدالت عالیہ کے احکامات کی نفی کرتی ہے۔

صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل اب دستخط کےلیے گورنر سرحد کے پاس جائے گا ۔

واضع رہے کہ متنازعہ حسبہ بل پہلی دفعہ چودہ جولائی 2005 کو سرحد اسمبلی سے منظور کرایا گیا تھا تاہم بعد میں اس وقت کے گورنرسرحد کمانڈر خلیل الرحمان نےاس بل پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس صدر پاکستان کے پاس بھجوایا تھا جنہوں نے اس کےخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نےاس بل میں کچھ ترامیم تجویز کرکے اسے دوبارہ سرحد حکومت کو واپس بھجوایا تھا۔

حسبہ، غیر آئینی حصے
حسبہ بل کے غیر آئینی قرار دیے جانیوالے حصے
مولویحسبہ کا قصہ
سرحد میں مجوزہ حسبہ بل ہے کیا؟
اسی بارے میں
حِسبہ بل کے خلاف ریفرنس
14 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد