BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 19:14 GMT 00:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت ہی ہماری آخری امید ہے‘

لا پتہ لوگوں کے رشتہ دار
لاپتہ لوگوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ حکومت بازیابی کی کوشش نہیں کر رہی ہے
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پیر کو لاپتہ افراد کے بارے میں مقدمے کی سماعت شروع کی تو دو برس سے پراسرار طور پر لاپتہ مسعود احمد جنجوعہ کی بیگم رو پڑیں اور چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ فوج کو بازیابی کا حکم دیں۔

انہوں نے روتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ حکمران، سیاستدان اور کوئی بھی ان کی فریاد نہیں سن رہا اور عدالت ان کی آخری امید ہے۔

عدالت کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جن اکتالیس لاپتہ افراد کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہے ان میں سے سولہ ایسے ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ انہیں افغانستان میں قید کیا گیا ہوگا یا شدت پسند تنظیموں نے یرغمال بنالیا ہوگا لیکن افغانستان کی حکومت نے رابطہ کرنے پر لاعلمی ظاہر کی ہے۔

عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ رہائی پانے والے افراد کی جانب سے دیے گئے حلف ناموں پر وزارت داخلہ سے بات کریں اور لاپتہ افراد کو تلاش کریں۔عدالت نے کہا کہ حلف نامے اہم دستاویزات ہیں۔ ان کی روشنی میں آگے بڑھا جائے۔

واضح رہے کہ عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے بعد کچھ لاپتہ افراد بازیاب ہوئے تھے اور ان میں سے کچھ نے بیان حلفی دیا تھا کہ وہ پاکستان کی سکیورٹی ایجینسیوں کی تحویل میں تھے اور باقی لاپتہ افراد بھی خفیہ اینجسیوں کی حراست میں ہیں۔

یاد رہے کہ آمنہ مسعود جنجوعہ جو لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی کوآرڈینٹر بھی ہیں، نے مسلسل دو روز تک سپریم کورٹ کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کی تھی اور مظاہرہ بھی کیا تھا۔

پیر کو دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس نے آمنہ مسعود اوردیگر لوگوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر مظاہرہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ان کے بینر اٹھانے اور نعرے لگانے سے عدالت بلیک میل نہیں ہوگی۔ان کے مطابق عدالت کسی پر احسان نہیں کر رہی بلکہ از خود کارروائی کرکے اپنا فرض پورا کر رہی ہے۔

عدالت نےاس مقدمے کی مزید سماعت چھ فروری تک ملتوی کردی اورسرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ وزارت داخلہ سے مل کر آئندہ سماعت کی تاریخ پرسولہ لاپتہ افراد کے بارے میں عدالت میں معلومات پیش کریں۔

اسی بارے میں
’گمشدگیوں‘ کا سلسلہ جاری
17 January, 2007 | پاکستان
گمشدگی پر ہائی کورٹ کا نوٹس
22 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد