BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 January, 2007, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گمشدگیوں‘ کا سلسلہ جاری

 لاپتہ افراد کے خاندانوں کا احتجاج
ملک بھر میں لاپتہ افراد کے خاندان والوں نے احتجاج کیا ہے
بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں اور بلوچ قبائل سیاسی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور غیر قانونی طور پر زیر حراست افراد کے حوالے سے آئے روز احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ صوبے میں انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کوئٹہ کے قریب نیو کاہان کی رہائشی ایک خاتون بخت بی بی نے اپنے دو بیٹوں کی گمشدگی یا غیر قانونی حراست کے بارے میں بتایا کہ اب ان کے گھر میں اور کوئی نہیں ہے اور وہ لوگوں سے ادھار مانگ کر گزارہ کر رہی ہیں اور جس دن لوگوں نے ادھار دینا چھوڑ دیا تو وہ مر ہی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا میر احمد گردے کا مریض ہے اور اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے۔ اس طرح کی اور بزرگ خواتین بھی انسانی حقوق کی تنظیم کے دفتر میں موجود تھیں جن کے ہاتھوں میں اپنے گھر کے گمشدہ یا بقول ان کے اغوا کیے گئے مردوں کی تصویریں تھیں اور وہ ان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

مری قبیلے کے ان لوگوں نے گزشتہ روز انسانی حقوق کی تنظیم کو ان حراستوں یا گمشدگیوں کے حوالے سے یادداشت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ کم سے کم ساڑھے تین سو افراد کو گزشتہ کچھ عرصہ میں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں کے سامنےاحمد خان نامی شخص کا ذکر کیا ہے جو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے لیکن اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے صدر ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان کی تنظیم کو اس بارے میں تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو بینادی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ دار ہےاور حکومت کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کارروائی کرنی چاہیے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سیاسی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اور گزشتہ کچھ دنوں میں کم سے کم کوئی ستر افراد کی گرفتاریوں اور گمشدگیوں کے حوالے سے عدالت میں درخواستیں پیش کی گئی ہیں۔ ان کارکنوں اور قائدین کو تعلق بلوچستان نیشنل پارٹی سے ہے۔

اس حوالے سے بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے کوئی تریپن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور یہ کوئی سیاسی گرفتاریاں نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ کسی نہ کسی مقدمے میں مطلوب تھے یا امن عامہ کے حوالے سے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو کسی نہ کسی مقدمے میں مطلوب تھے اوربے گناہ ثابت ہونے پر انھیں رہا کر دیا جائے گا۔

دیکھیئے لاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی بھوک ہڑتال
لاپتہ افراد کے اہل خانہلاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
عتیق کی والدہشاید وہ آ جائے۔۔۔۔
’لاپتہ‘ بیٹے کی راہ تکتے والدین کا سال کیسا رہا
اسی بارے میں
’ہمارے کارکن غائب ہیں‘
05 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد