BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ ہر ماہ اذیت اور ہر سال موت‘

عتیق الرحمان
جس دن عتیق الرحمان لاپتہ ہوئے وہ ان کی بارات کا دن تھا
’ہمارا تو ہر لمحہ عذاب، ہر دن جہنم، ہر ماہ اذیت اور ہر سال موت ہے۔ دروازے پر دستک ہو یا ٹیلیفون کی گھنٹی بجے تو فورا بیٹے کا خیال آ جاتا ہے۔ شاید وہ خود آیا ہو یا پھر اس کی کوئی خبر۔ میری نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ آنکھ اگر لگتی ہے تو بیٹا خواب میں آ کر کہتا ہے امی ناشتہ تیار کریں۔ نیند کے لیئے گولیاں کھاتی ہوں‘۔

یہ ذہنی حالت ہے ایبٹ آباد کی ایک ماں پچپن سالہ شمس النساء کی جو پچھلے ڈھائی برسوں سے اپنے بیٹے عتیق الرحمان کی راہ تک رہی ہیں۔

ان کی آنکھوں میں بظاہر نہ تھمنے والے آنسو اور دل میں انجانا خوف ہے لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ان کی باتوں میں اُمید کی جھلک ضرور ہے۔ بیٹے کی واپسی کی یہی اُمید شاید انہیں اپنے اوسان مکمل طور پر کھو دینے سے روکے ہوئے ہے۔

’اس کا بارات کا جوڑا بھی آج تک استری کر کے تیار رکھا ہوا ہے‘

بیٹے کی اتنی طویل گمشدگی کا برا اثر صرف انہیں پر نہیں ہوا۔ عتیق الرحمان کے والد چھیاسٹھ سالہ حاجی صدیق الرحمان عباسی بھی اپنے بیٹے کے ’لاپتہ‘ ہونے کے بعد سے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ اس سال تو ان کی حالت اتنی غیر ہوئی کہ انہیں ذہنی علاج کے لیئے تین ماہ تک ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

ان سے ملاقات ہوئی تو انہیں انتہائی بےچین روح کی طرح پایا۔ ٹخنوں تک اونچی شلوار پہنے ایک ایسا شخص جو اپنے اندر کوئی طوفان دبانے کی ایک مسلسل کوشش میں جُتا ہو۔ انہیں ہر وقت کچھ بڑ بڑاتے پایا۔ اس دوران وقفے وقفے سے ان کے منہ سے ’اوف اوئے‘ جیسی آہیں بھی سُنیں۔

 ’ہمارا تو ہر لمحہ عذاب، ہر دن جہنم، ہر ماہ اذیت اور ہر سال موت ہے۔ دروازے پر دستک ہو یا ٹیلیفون کی گھنٹی بجے تو فورا بیٹے کا خیال آ جاتا ہے۔ شاید وہ خود آیا ہو یا پھر اس کی کوئی خبر۔ میری نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ آنکھ اگر لگتی ہے تو بیٹا خواب میں آ کر کہتا ہے امی ناشتہ تیار کریں۔ نیند کے لیئے گولیاں کھاتی ہوں‘۔

آخر اس لاچار ماں باپ کا یہ حال کیوں ہے؟ ان کے گمشدہ بیٹے کے بارے میں جاننے کے بعد آپ کو اس سوال کا جواب خود ہی مل جائے گا۔ عتیق الرحمان کوئی عام بیٹا یا انسان نہیں ہے۔ وہ ایک ایسا بیٹا ہے جو پانچ بیٹیوں کے بعد بڑی منتوں مرادوں سے پیدا ہوا، جو انتہائی لائق اور ذہین تھا، ہونہار تھا اور سب سے بڑھ کر ماں باپ کا تابع فرماں اور خیال رکھنے والا تھا۔

ماں، باپ کے لیئے اٹھائیس سالہ نوجوان بیٹے کی گمشدگی کا درد اس لیے بھی شاید ناقابل برداشت ہے کہ وہ عین اس روز غائب ہوا جس دن اس کی بارات تھی۔ شام چار بجے بارات کا وقت مقرر تھا۔ اس روز صبح عتیق گھر سے بال اور شیو بنانے نکلا۔

واپسی پر عینی شاہدین کے مطابق اسے موبائل پر کال آئی اور وہ بظاہر کسی مہمان کو لینے آدھے راستے سے لوٹ کر ایبٹ آباد کے اڈے کی جانب روانہ ہوگیا۔ اس کے بعد اسے کسی نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کو معلوم ہوسکا ہے کہ وہ گیا تو آخر کہاں گیا۔ اسے زمین کھا گئی یا آسمان؟

اٹھائیس سالہ عتیق الرحمان نے اکتوبر انیس سو ننانوے میں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے فزکس میں گولڈ میڈل لیا۔ دو برس بعد وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطور سینئر سائنٹفک افسر ملازم ہوگئے۔ دوران تربیت بھی انہیں بہترین کارکردگی پر فروری دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک تقریب میں گولڈ میڈل دیا۔

حاجی صدیق الرحمان عباسی اپنے بیٹے کے ’لاپتہ‘ ہونے کے بعد سے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

حاجی صدیق الرحمان انیس سو پینسٹھ سے ایبٹ آباد کے مین بازار میں ایک جنرل سٹور چلا رہے ہیں۔ ایبٹ آباد کے قدیمی مگر متوسط آبادی والے قاضی محلہ کی پُرپیچ اور تنگ گلیوں کے آخری حصے میں اُن کا ایک چھوٹا سا مکان ہے۔

اس مکان کی دوسری منزل پر ان کے بیٹے عتیق کا کمرہ ہے جہاں اس کی کتابوں کی الماری کے علاوہ اس کی شادی کا سامان (آیا ہوا جہیز) بھی جیسے کا تیسا پڑا ہے۔ دلہن کی سنگھار میز پر اس کی چوڑیاں بھی طریقے سے سجی پڑی تھیں۔ ان پر دھول نام کی نہیں تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ کمرے کی صفائی باقاعدگی سے ہوتی ہے۔

اس کی والدہ نے بتایا کہ اس کا بارات کا جوڑا بھی انہوں نے آج تک استری کرکے تیار رکھا ہوا ہے اس اُمید میں کہ وہ آئے گا اور تیار ہو کر اپنی دلہن کو لینے چل پڑے گا۔

اس کا رشتہ اپنے پھوپھی زاد بھائی کی بیٹی سے طے ہوا تھا۔ عتیق کی دلہن آج بھی اپنے دولہے کا انتظار کر رہی ہے لیکن عتیق کی ساس بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھنے کی خواہش ساتھ لے کر اس دنیا سے گزشتہ ماہ چلی گئیں۔

بیٹے کی گمشدگی کے بعد اس کے بوڑھے والدین نے اس کی تلاش میں شاید ہی کوئی در یا دفتر چھوڑا ہو۔ دو برس تک تو ان کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف ذرائع سے صرف اتنا بتایا جاتا رہا کہ ان کا بیٹا ٹھیک ہے اور اسے قیدخانے میں اے گریڈ کی سہولتیں دی گئی ہیں۔ لیکن ساتھ میں انہیں میڈیا سے دور رہنے کی ہدایات بھی ملتی رہیں۔

عتیق کی دلہن کی چوڑیاں آج بھی کمرے میں سجی ہیں

سفید ریش حاجی صدیق اور ان کی بوڑھی اہلیہ دو برس تک اس خوف سے خاموش رہے کہ کہیں ان کی بے صبری ان کے بیٹوں کو مشکل میں نہ ڈال دے۔ لیکن ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے اور ان کے صبر کا پیمانہ اس برس کے وسط میں لبریز ہوگیا۔

انہوں نے بالآخر عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا۔ لیکن اس سال جون میں حکومت اور خفیہ ایجنسیوں نے عتیق کی ان کے تحویل میں ہونے سے انکار کر دیا۔ ہائی کورٹ سے ان کا کیس خارج ہوگیا۔ تاہم اس کیس سے مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی حراست میں افراد کے رشتہ داروں کو اکھٹا ہونے کا موقع ملا اور انہوں نے یہ سنگین مسئلہ سپریم کورٹ میں لیجانے کا فیصلہ کیا۔

 اٹھائیس سالہ عتیق الرحمان نے اکتوبر انیس سو ننانوے میں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے فزکس میں گولڈ میڈل لیا۔ دو برس بعد وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطور سینئر سائنٹفک افسر ملازم ہوگئے۔ دوران تربیت بھی انہیں بہترین کارکردگی پر فروری دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک تقریب میں گولڈ میڈل دیا۔

عدالتِ عظمٰی نے حکومت کو اکتالیس لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات یکم دسمبر تک فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اس روز عتیق کے بارے میں تو کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تاہم اس سے چند روز قبل بیس دیگر افراد کو خفیہ اداروں نے رہا کر دیا۔

اس پیش رفت سے حاجی صدیق اور ان کی اہلیہ کی اُمیدیں پھر سے بندھ گئی ہیں۔ اب انہیں آٹھ جنوری کو اگلی پیشی کا بےچینی سے انتظار ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ہومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اکٹھے کیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں دو سو چالیس سے زائد افراد ’زبردستی لاپتہ‘ ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد کا تعلق بلوچستان اور دوسرے نمبر پر سندھ سے ہے۔ کوئی مستری ہے تو کوئی سابق فوجی افسر۔ ان تمام کے اہل خانہ کی کہانی بھی شاید عتیق الرحمان کے والدین سے زیادہ مختلف نہ ہو۔ سب کرب میں ہیں، سب کو نہیں معلوم ان کا قصور کیا ہے۔

عتیق کے والدین سے بھی اس کے ’اغوا‘ کے تقریباً تمام امکانات کے بارے میں دریافت کیا لیکن بات پھر بھی سمجھ نہ آئی۔ اس کے والدین کے بقول نہ وہ مذہبی ذہن کا مالک تھا نہ کسی جہادی تنظیم سے اس کا کچھ لینا دینا۔ ڈاکٹر قدیر سے کوئی تعلق بھی واضح نہیں ہوسکا البتہ اس کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے قومی ہیرو سے سلوک پر نالاں ضرور تھا اور جہاں بیٹھتا اس پر تنقید کرتا۔ یہ کوئی گمشدگی کی ایسی بڑی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

عتیق کے والد کے مطابق اس کی ایک بری عادت اس کا غصیلہ ہونا تھی۔ ’ناجائز بات پر وہ لڑ پڑتا تھا۔ ناجائز بات اسے کبھی قابل قبول نہیں تھی‘۔ عتیق کی والدہ آنسو صاف کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے ان کے لیے اس سال سے اگلا سال بہتر ہوگا۔ ’جب عتیق واپس آئے گا تو ہم اس کی فوراً شادی کر دیں گے۔ ہم آپ سب کو بھی مدعو کریں گے‘۔

احمد خان تینولاپتہ رہنما ظاہر
دو اور لاپتہ رہنما پولیس کی حراست میں ہیں
سندھی قوم پرست رہنماء نواز اور سکندر’لاپتہ رہنماء برآمد‘
دس ماہ سے لاپتہ سندھی رہنماء پولیس تحویل میں
’لاپتہ جہادی‘
ضلع دیر کے درجنوں ’مجاہد‘ لاپتہ
 آصف بالادی سندھ ۔ آصف بالادی
وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ
محمد حسین ’ کچھ پتہ نہیں‘
چودہ ماہ سے شوہر لاپتہ ہیں: ملتان کی نسرین
حکومت کی ناکامی
لاپتہ افراد کی تلاش،حکومت کی ناکامی
اسی بارے میں
بی بی سی کے دلاور ’رہا‘
21 November, 2006 | پاکستان
لاہور کے عاطف گھر پہنچ گئے
01 December, 2006 | پاکستان
دس لاپتہ افراد کی بازیابی
01 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد