BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 August, 2006, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیر: درجنوں افغانستان میں لاپتہ

تازہ گرام گاؤں کے تقریبًا سو افراد افغانستان گئے تھے
پانچ سال قبل ’جہاد‘ کی غرض سے افغانستان گئے صوبہ سرحد ضلع ِدیر کے درجنوں لاپتہ افراد کے والدین پریشانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان لاپتہ افراد کے والدین کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ ان کے بچے زندہ بھی ہیں یا
مرگئے ہیں۔

تیمرگرہ بازار سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تازہ گرام گاؤں کے سو کے قریب افراد اسلامی ملیشیاء کا ساتھ دینے افغانستان گئے تھے جن میں سے 75 افراد تین چار ماہ کے بعد واپس آگئے تاہم پچیس افراد لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ۔

ان لاپتہ افراد کے والدین انتہائی بے بسی کی عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے بچھڑے ہوئے بچوں کے زندہ واپس آنے کی امید ترک کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔

 تیمر گرہ بازار سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس گاؤں کے سو کے قریب افراد اسلامی ملیشیاء کا ساتھ دینے افغانستان گئے تھے جن میں سے 75 افراد تین چار ماہ کے بعد واپس آگئے تاہم پچیس افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ

ان کےوالدین کو صرف اپنے بچوں کے بچھڑنے کا غم ہی نہیں کھائے جارہا ہے بلکہ لاپتہ افراد کی بیوی بچے اور ان کی دیکھ بھال بھی ان کے ذمے ہیں جو بقول ان لاپتہ افراد کے والدین کے ان کے لیئے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

افغانستان میں لاپتہ ہونے والے ان افراد کی اکثریت کی مائیں اپنے بچوں کی جدائی کی غم میں طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوگئی ہیں، بعض کو دل کا عارضہ لاحق ہے تو کئی مائیں تو اپنے بچوں کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں۔

لاپتہ ہونے والوں میں سترہ سالہ بخت زیب بھی شامل ہے۔ گاؤں تازہ گرام کے رہنے والے بخت زیب کی افغانستان جانے سے چار ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔

بخت زیب کے والد محمد وہاب نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بیٹے کی تلاش میں تین مرتبہ افغانستان جاچکے ہیں لیکن انہیں کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ بخت زیب زندہ ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے افغانستان کے وہ تمام علاقے چھان مارے ہیں جہاں پر میرے بیٹے نے دن گزارے تھے اور کئی افغان کمانڈروں سے بھی ملا ہوں لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا زندہ ہے اور وہ ایک دن ضرور آئے گا۔ ناامیدی گناہ ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بخت زیب کی ماں اپنے بیٹے کے جدائی کے غم میں دل کی عارضے میں مبتلا ہوگئی تھیں اور ان کاگزشتہ سال انتقال ہوا۔

لاپتہ ہونے والے ان افراد میں اکثریت کی بیویاں جوان ہیں اور ان میں زیادہ تر کی شادیاں اپنے خاندانوں کے اندر انجام پائی ہیں جس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین کو انتہائی مشکل کا سامنا ہے۔ نہ وہ اپنے لاپتہ بیٹوں کے زندہ آنے کی امید ترک کرسکتے ہیں اور نہ ان کی جوان بیویوں کی کسی اور جگہ شادی کراسکتے ہیں ۔

اسی گاؤں کے حمید خان کا بیٹا امجد علی بھی گزشتہ چھ سال سے افغانستان میں لاپتہ ہے۔ انیس سالہ امجد علی کے والد حمید خان نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے گھر میں نہیں بتایا تھا کہ وہ افغانستان جارہا ہے بلکہ یہ کہہ کر گھر سے نکلا کہ وہ چکدرہ میں جلسہ میں شرکت کے لیئے جارہا ہے لیکن دو دن بعد معلوم ہوا کہ وہ افغانستان چلا گیا ہے۔

افغانستان سے ایک بڑی تعداد میں قیدی رہا بھی ہوئے لیکن ابھی بھی وہاں سینکڑوں کے تعداد میں پاکستانی افغان حکومت اور ملیشاء کمانڈروں کے زیر حراست ہیں جن کی رہائی کے لیئے حکومت کی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے۔
حمید خان

ان کا کہنا تھا کہ جس دن سے امجد علی لاپتہ ہے اس وقت سے اس کی ماں بیمار ہے۔ان کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی ہے۔ وہ کسی سے نہ تو بات کرتی ہیں اور نہ ہی کسی کی گھر جاتی ہیں۔ ہر وقت گھر میں روتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا’حکومت نے ان لاپتہ ہونے والے افراد کے تلاش کے سلسلے میں ابھی تک کوئی خاص عملی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔ ہمیں جھوٹی تسلیاں دی جاتی ہے لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں ہورہا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ایک بڑی تعداد میں قیدی رہا بھی ہوئے لیکن ابھی بھی وہاں سینکڑوں کے تعداد میں پاکستانی افغان حکومت اور ملیشاء کمانڈروں کے زیر حراست ہیں جن کی رہائی کے لیئے حکومت کی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے۔

جہاد آخر ہے کیا؟
نظریہ جہاد پاکستانی مسلم علماء کی نظر میں
حاجی عمرحاجی عمرکاانٹرویو
’غیر ملکی فوج کے انخلا تک لڑتے رہیں گے‘
اسی بارے میں
’جہاد کی اجازت نہیں دیں گے‘
18 February, 2004 | پاکستان
جہاد آخر ہے کیا؟
24 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد