’متاثرہ علاقوں میں جہادی نہیں ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے بتایا ہے کہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقوں میں زلزلہ زدہ علاقوں میں کوئی جہادی تنظیم کام نہیں کر رہی ہے اور اب تک چھ لاکھ کے قریب خیمے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں شیلٹر تعمیر کیے جا رہے ہیں- میجر جنرل فاروق احمد خان بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالات کا جواب دے رہے تھے- وفاقی ریلیف کمشنر نے بتایا کہ پانچ ہزار فٹ سے بلند علاقوں میں سردیاں اور برف باری سہنے والے مصیبت زدہ لوگوں کو سترہ ہزار خیمے دیے گئے ہیں- میجر جنرل فاروق نے بتایا کہ اب تک زلزلہ زدہ لوگوں میں گیارہ ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں جن میں سرحد کی حکومت نے پانچ ارب روپے تقسیم کیے ہیں- تباہ شدہ مکانات کے معاوضہ کے بارے میں میجر جنرل فاروق احمد خان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہر گھر کے لیے پچیس ہزار کا معاوضہ دیا جارہا ہے چاہے وہ بڑا گھر تھا یا چھوٹا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلہ میں بھی ایک مقررہ اسکیل پر یکساں معاوضہ دیا جائے گا- وفاقی کمشنر نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں کوئی جہادی تنظیم کام نہیں کر رہی ہے- | اسی بارے میں ’ڈیڑھ لاکھ افراد کو رہائش میسر‘02 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: ریلیف کمشنر کے ساتھ ٹاکنگ پوائنٹ30 November, 2005 | پاکستان ’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘25 November, 2005 | پاکستان ’650 متاثرین کے اعضاء کاٹے گئے‘18 November, 2005 | پاکستان ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق11 November, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد: ’دنیا کے دہرے معیار ہیں‘04 November, 2005 | پاکستان ہلاک شدگان کی تعداد تہتر ہزار02 November, 2005 | پاکستان ’ تعمیرِ نو میں وقت لگے گا‘21 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||