BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 December, 2005, 19:09 GMT 00:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’متاثرہ علاقوں میں جہادی نہیں ہیں‘
ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق
ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق کا کہنا ہے کہ اب تک گیارہ ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے بتایا ہے کہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقوں میں زلزلہ زدہ علاقوں میں کوئی جہادی تنظیم کام نہیں کر رہی ہے اور اب تک چھ لاکھ کے قریب خیمے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں شیلٹر تعمیر کیے جا رہے ہیں-

میجر جنرل فاروق احمد خان بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالات کا جواب دے رہے تھے-

وفاقی ریلیف کمشنر نے بتایا کہ پانچ ہزار فٹ سے بلند علاقوں میں سردیاں اور برف باری سہنے والے مصیبت زدہ لوگوں کو سترہ ہزار خیمے دیے گئے ہیں-

میجر جنرل فاروق نے بتایا کہ اب تک زلزلہ زدہ لوگوں میں گیارہ ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں جن میں سرحد کی حکومت نے پانچ ارب روپے تقسیم کیے ہیں-

تباہ شدہ مکانات کے معاوضہ کے بارے میں میجر جنرل فاروق احمد خان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہر گھر کے لیے پچیس ہزار کا معاوضہ دیا جارہا ہے چاہے وہ بڑا گھر تھا یا چھوٹا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلہ میں بھی ایک مقررہ اسکیل پر یکساں معاوضہ دیا جائے گا-

وفاقی کمشنر نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں کوئی جہادی تنظیم کام نہیں کر رہی ہے-

اسی بارے میں
ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق
11 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد