لاہور کے عاطف گھر پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات ایسے افراد جن کے بارے میں شبہ تھا کہ انہیں سیکیورٹی ایجنسیوں نے کسی قانونی کارروائی کے بغیر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے چار دن پہلے اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں۔ لاہور کے رہائیشی ستائیس سالہ عاطف ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ ستائیس ماہ کسی سیکیورٹی ایجنسی کی تحویل میں رہنے کے بعد ستائیس نومبر کو وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ عاطف ادریس نے بتایا کہ ستائیس نومبر کی رات دس بجے انہیں چھ دیگر افراد کے ہمراہ ایک نامعلوم مقام سے دو گھنٹے ویگن میں سفر کے بعد راولپنڈی کے ترنول انٹرچینج پر چھوڑ دیا گیا۔ وہ نہیں جانتے کہ انہیں کس جگہ قید رکھا گیا تھا۔ عاطف ادریس نے کہا کہ جب ان لوگوں کو رہا کیا گیا تو اس جگہ سے مزید پندرہ لڑکوں کو کوٹھریوں سے باہر نکالا گیا تھا جنہیں ان کے خیال میں مختلف ضلعوں کی پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ چھ لڑکے رہا ہوئے اور دوسرے لڑکے شاید چند دنوں میں رہا کردیے جائیں گے۔ عاطف ادریس نے بتایا کہ انکے ساتھ جن افراد کو حراست سے رہا کیا گیا ان میں لاہور کے ارشد اور عالمگیر، راولپنڈی کے عمر بٹ، راولا کوٹ کے عبدالجبار، حیدرآباد سندھ کے عبدالرزاق اور کراچی سے تعلق رکھنے والے مظہر نذر شامل تھے۔ عاطف ادریس نے کہا کہ انہیں رہا کرتے ہوئے ان کو قید میں رکھنے والے کسی سرکاری ادارہ کے اہلکاروں نے ان سب سے کہا کہ وہ دس پندرہ دنوں تک اپنی سرگرمیاں محدود رکھیں اور زیادہ وقت اپنے گھروں پر گزاریں۔ عاطف ادریس نے کہا کہ انہیں قید میں رکھنے والے اپنی شناخت مختلف اداروں کے اہلکاروں کے طور پر کرواتے تھے۔ وہ کبھی اپنا تعلق آئی بی، کبھی ایم آئی اور کبھی سی آئی ڈی سے بتاتے تھے۔ عاطف نے کہا کہ انہیں گرفتار کرنے کے پہلے پندرہ دنوں تک ان سے لاہور میں تفتیش کی جاتی رہی اور بعد میں دو سال تک کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وجہ سے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کے کہنے پر دو مختلف پارٹیوں کو مکان کرائے پر لے کر دیے تھے جن کے بارے میں سیکیورٹی ایجنسیوں کو خیال تھا کہ وہ جہادی تھے۔ عاطف نے کہا کہ انہوں نے تفتیش کرنے والوں کو بتایا کہ انہوں نے مکان کرائے پر لے کر دیے تھے جو کوئی جرم نہیں اور اگر ایسا ہے تو ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ عاطف نے کہا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد اہلکاروں نے کہا کہ ان کی طرف سے وہ فارغ ہیں تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا بلکہ مختلف جگہوں پر حراست میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر تین ہفتے بعد ان کی اور ان کے ساتھ قید دوسرے لوگوں کی جگہ تبدیل کردی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی جیل میں نہیں رکھا گیا بلکہ یہ کوئی اور عمارت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں شروع میں ایسی جگہ پر قید رکھا گیا جہاں کئی افراد مل کر رہتے تھے لیکن بعد میں ایسی عمارتوں میں لے جایا گیا جہاں سیل (کوٹھڑیاں) بنے ہوئے تھے جو پانچ فٹ ضرب پانچ فٹ یا پانچ فٹ ضرب دس فٹ پیمائش کے تھے۔ عاطف ادریس نے کہا کہ ابتدائی تشدد کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور انکے کھانے پینے، کپڑوں اور صحت کا خیال رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر ان لوگوں سے ملنے آتا تھا اورایک ڈسپنسر ہر وقت ان لوگوں کے قریب موجود رہتا تھا۔ عاطف نے کہا کہ دوران حراست ان کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا تھا کہ یہ لوگ ہمارے ساتھ کیا کریں گے اور اپنی والدہ یاد آتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ سرکاری اہلکاروں سے کہتے تھے کہ انہیں جیل منتقل کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے تو وہ کہتے تھے کہ انہیں ویسے ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ جو لوگ زیر حراست تھے ان میں کشمیری بھی تھے اور دوسرے ایسے لوگ تھے جن کےبارے میں شبہ تھا کہ ان کا جہادیوں سے تعلق ہے۔ حالیہ مہینوں میں گمشدہ افراد کے لواحقین نے ان کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اٹھارہ گمشدہ افراد کی اجتماعی رٹ درخواست کے ساتھ ساتھ اکتالیس گمشدہ افراد کے لواحقین نے الگ الگ درخواستیں عدالت میں دائر کر رکھی ہیں۔ |
اسی بارے میں معلومات فراہم کرنے کی آخری مہلت10 November, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ01 October, 2006 | پاکستان ’وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ‘20 July, 2006 | پاکستان ’ایجنسیوں کا کام قانوناً ممکن نہیں‘03 July, 2006 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘03 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||