پراسرار گمشدگیاں اور بے بسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اللہ تعالی کا فضل ہے وہ صیح سلامت، خیریت سے واپس آگیا ہے۔ ہمیں اس سے زیادہ اور کیا چاہیے۔ میں غریب آدمی ہوں، رکشہ چلاتا ہوں، میں کیا کسی سے انصاف مانگوں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا‘۔ صوبہ سرحد کے مردان شہر کے محمد اسرار اپنی لاچاری کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی علی شیر کو مبینہ طور پر خفیہ اداروں کے اہلکار ڈیڑھ برس قبل القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں اٹھا کر لے گئے تھے۔ علی شیر کو کچھ روز قبل ہی رہائی نصیب ہوئی ہے۔ ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو محمد اسرار کا کہنا تھا ’بے گناہ بھائی کی اسیری کے خلاف اگر عدالت میں بھی جاؤں تو کیا ہوگا، ہم کچھ نہیں کرسکتے‘۔ ان کے جواب سے بے بسی کی وہ کیفیت عیاں تھی جس کا پاکستان میں پراسرار طور غائب ہوجانے والے افراد اور ان کے اہل خانہ شکار ہیں۔ محمد اسرار اور ان کے بھائی سے ملاقات کا وقت مانگا تو انہوں نے رضامندی کا اظہار کیا، لیکن دوسرے روز انہوں نے اپنا موبائل فون تمام دن بند رکھا جس کا مطلب واضح تھا کہ وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتے۔ ستائیس سالہ علی شیر پیشہ کے لحاظ سے ڈیزل گاڑیوں کے مکینک ہیں۔ ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اٹھارہ ماہ کی حراست کے بعد انہیں مبینہ طور پر خفیہ ادارے کے اہلکار مردان کی سبزی منڈی کے قریب چھوڑ گئے۔ ان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ اپنی واپسی کے بعد سے علی شیر خاموش ہیں۔ ’وہ اپنی گمشدگی کے بارے میں کوئی بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ انہیں اسلام آباد میں کہیں رکھا گیا تھا‘۔ یہ خاموشی صرف گھر تک محدود نہیں بلکہ وہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات سے بھی گریزاں ہیں۔ علی شیر اپنی شادی کے سترہ روز بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔گمشدگی کے دوران ان کے ہاں ایک بچی کی پیدائش بھی ہوئی۔ انہیں مردان کے ایک بازار سے مبینہ طور پر گذشتہ برس تین مئی کے روز ’اغوا‘ کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی مردان سے القاعدہ کے ایک مبینہ رہنما ابو فراج البی کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی تھی۔ پاکستانی حکام کے مطابق ابو فراج کی گرفتاری القاعدہ کے خلاف جاری کارروائی میں ایک اہم کامیابی تھی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ابو
تاہم ان کی گمشدگی کے بعد اخبارات میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے شائع خبروں میں علی شیر کو القاعدہ کا اہم رکن بتایا گیا تھا، جو تنظیم کے لیے لوگ بھرتی کیا کرتے تھے۔ ان کی رہائی کے بعد شاید یہ خبریں اب جھوٹ ثابت ہوگئی ہیں۔ علی شیر کے بھائی ان کا کسی ’جہادی‘ یا عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔’ہم تو کسی مدرسے بھی نہیں گئے۔ پانچویں جماعت سے محنت مزدوری کی خاطر تعلیم چھوڑنی پڑی‘۔ محمد اسرار اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں باقاعدگی کے ساتھ برسر عام احتجاج کرتے رہے اور ایک دفعہ تو انہوں نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر دھرنا بھی دیا تھا۔ لیکن بھائی کے گھر پہنچنے کے بعد سے ان کا رویہ تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں بھائی کی برآمدگی کے لیے دائر اپنی اپیل بھی واپس لے لی ہے۔ یہ پٹیشن ان کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے دائر کی ہوئی تھی۔ علی شیر ان چالیس لاپتہ افراد میں شامل تھے جن کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو یکم دسمبر تک معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ | اسی بارے میں معلومات فراہم کرنے کی آخری مہلت10 November, 2006 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ01 October, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث07 September, 2006 | پاکستان ’لاپتہ‘ قوم پرستوں کےلیے احتجاج21 July, 2006 | پاکستان ’انجینئر آئی ایس آئی کی تحویل میں‘01 July, 2006 | پاکستان ابو فراج انتہائی مطلوب کیوں؟ 04 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||