BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 December, 2006, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھائی آئی ایس آئی کے پاس ہے‘

مولانا عبدالعزیز
’دہشتگردی کا مخالف لیکن جہاد کا حامی ہوں‘
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی شاہ عبدالعزیز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی کو خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔

سنیچرکو نیوز بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ پچیس اگست کو ان کے بھائی محبوب الہٰی اسلام آباد میں ان سے ملنے آئے اور نماز ادا کرنے جب لال مسجد گئے تو واپس نہیں لوٹے۔

ان کے مطابق انہیں گمنام فون آیا کہ محبوب الہٰی کو القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔

شاہ عبدالعزیز نے دھمکی دی کہ اگر ان کے بھائی کو رہا نہ کیا گیا تو آئندہ ماہ کی چھ یا سات تاریخ کو جب صدر جنرل پرویز مشرف کرک کا دورہ کریں گے تو ان کا خٹک قبیلہ راستہ روکے گا اور حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ انہوں نے صدر مشرف کے خلاف قومی اسمبلی میں تقریر کی تھی کہ وہ جس طرح قبائلیوں کے بچوں کو یتیم کر رہے ہیں ایک روز صدر مشرف پر بھی کامیاب حملہ ہوگا اور بلال مشرف بھی یتیم ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تقریر کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو حراساں کیا جاتا رہا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں مولانا سمیع الحق نے معاملہ میڈیا میں نہ لانے کا مشورہ دیا۔

گزشتہ عرصہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین احتجاج کرتے رہے ہیں

رکن قومی اسمبلی کے مطابق جب وہ وزیراعظم شوکت عزیز سے ملے تو اس وقت ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوچکی تھی اور صوبہ سرحد کے اس وقت کے گورنر خلیل الرحمٰن نے کہا کہ وہ ووٹ وزیراعظم کو دیں لیکن ان کے بقول انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ جب وہ آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل نصرت نعیم سے ملے تو انہوں نے انہیں دھمکیاں دیں اور ان سے ان کی تلخ کلامی بھی ہوئی۔

شاہ عبدالعزیز نے بتایا کہ آئی ایس آئی نے اورنگزیب نامی شخص کو بیس اگست کے قریب گرفتار کیا جس نے حکام کو بتایا کہ اس کا لیپ ٹاپ میرے بھائی محبوب الہی کے گھر پر ہے۔

شاہ عبدالعزیز کے مطابق آئی ایس آئی والوں نے ان سے لیپ ٹاپ مانگا جو انہوں نے وفاقی وزیراعجاز الحق کی معرفت آئی ایس آئی کو پہنچا دیا لیکن آئی ایس آئی نے کہا کہ اس میں سے بہت سی چیزیں غائب ہیں۔

رکن اسمبلی کے مطابق بعد میں آئی ایس آئی والوں نے ان کے بھائی پر انسداد دہشت گردی کا مقدمہ بنوایا جس میں سے وہ بری ہوگئے لیکن تاحال انہیں رہا نہیں کیا جارہا اور خدشہ ہے کہ ان پر کوئی اور مقدمہ نہ بنا دیا جائے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے مخالف ہیں لیکن جہاد کے حامی ہیں۔

واضح رہے کہ اورنگزیب بھی برطانوی شہری ہیں اور ان کا تعلق کشمیر سے ہے۔ ان کے متعلق رکن اسمبلی نے بتایا کہ ان کے بھائی سے محبوب الٰہی کی ملاقات ایک اسلامی اجتماع میں ہوئی جس کے بعد دونوں میں دوستی ہو گئی۔ شاہ عبدالعزیز کے مطابق اورنگزیب ضلع کرک میں ان کے گھر بھی آئے تھے۔

اسی بارے میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد