اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں نے اپنے رشتہ داروں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا اور اقوام متحدہ کو ایک یاداشت پیش کی۔ لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ گمشدہ افراد کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغواء کیا ہے اور ان کو جبری حراست میں رکھاگیا ہے۔ مظاہرین نے اپنی یاداشت میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ ایک کمیشن تشکیل دے جو پاکستان میں ممکنہ خفیہ قید خانوں کی موجودگی کے بارے میں تفتتیش کرے اور یہ معلوم کرے کہ یہ کس کے حکم پر قائم کیے گئے ہیں اور یہ کہ حراست میں لیے جانے والوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان کے لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو فوری اورغیر جانبدارانہ تحقیتات کرائے کہ آیا کسی فوجی یا سول افسر نے کسی طریقے سے زیر حراست لوگوں پر تشدد کرنے کی منظوری یا اجازت دی۔ اس مظاہرے میں ایک سو دس لاپتہ افراد کے خاندان والوں نے شرکت کی۔ ان میں سے بعض نے بینرز اور کتبے بھی اٹھارکھے تھے۔ایک پلے کارڈ پر لکھا مظاہرین نے اقوام متحدہ کے نمائندے کو ایک یاداشت بھی پیش کی جس میں عالمی ادارے سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کے کہنے کے مطابق جبری طور پر اٹھائے گئے افراد کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نےاپنے رشتہ داروں کے بارے میں جاننے اور ان کی بازیابی کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ اگرچہ ابتدا میں بہت کم خاندان اس مہم میں شریک ہوئے لیکن اب روز بروز یہ مہم زور پکڑتی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ مہم پاکستان کی سڑکوں اور عدالتوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ان لاپتہ افراد کے خاندان والے اس عالمی ادارے تک اپنی آواز پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے انہوں نے تاحال دوسو بیالیس لاپتہ افراد کے متعلق فہرست مرتب کی ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت کئی لوگوں کے بارے میں پتہ چلانے کے لیے مجبور ہوئی اور ان میں سے ڈیڑھ درجن افراد کو رہا بھی کیا گیا۔ اگرچہ احتجاجی مظاہروں اور عدالتی حکم کے باعث کچھ لوگوں کو رہا تو کیا گیا لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ لمبی اور سخت جنگ ہے۔ پاکستانی حکام انسانی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن عمومی تاثر یہ ہے کہ حکام کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ |
اسی بارے میں لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ09 December, 2006 | پاکستان تین مزید لاپتہ افراد رہا ہو گئے15 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے اہل خانہ سراپا احتجاج28 December, 2006 | پاکستان لاہور کے3 شیعہ افراد لاپتہ ہیں 28 December, 2006 | پاکستان عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں 28 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا مظاہرہ29 December, 2006 | پاکستان سلیم بلوچ ایک مرتبہ پھر لاپتہ03 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||