BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 December, 2006, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور کے3 شیعہ افراد لاپتہ ہیں

سپریم کورٹ
ان افراد کی گمشدگی کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے
شیعہ تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مسلک کے تین اہم افراد چھ ماہ سے کسی مقدمہ کے بغیر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں لیکن حکومت اس کا اعتراف نہیں کررہی ہے۔

جمعرات کو لاہور میں شیعہ طلبا تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکیل امجد علی کاظمی نے الزام لگایا کہ پاکستان میں بھی لوگوں کو غائب کرنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جیسا صدام حسین کے دور حکمرانی میں عراق میں ہوا کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ممتاز حسین رضوی، عمران نقوی اور ڈاکٹر علی رضا کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے چھ ماہ سے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

شیعہ رہنما نے کہا کہ یہ تینوں افراد دبئی میں ایک ساتھ کارو بار کررہے تھے جہاں سے واپسی پر انہیں پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کے لواحقین کو ان کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع نہیں ہے۔

 ممتاز رضوی تین جولائی سنہ دو ہزار چھ کو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ دبئی سے کراچی ائیر پورٹ اترے تھے اور امیگریشن کاؤنٹر پر سرکاری اہلکاروں نے ان کی اہلیہ کو اپنے بچوں کے ساتھ گھر جانے دیا اور انہیں بتایا کہ ممتاز رضوی کو پوچھ گچھ کے بعد جانے دیا جائے گا۔ تاہم اس وقت سے ممتاز رضوی کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔
وکیل امجد علی

وکیل امجد علی نے کہا کہ ان افراد کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں پر کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممتاز رضوی انجینئیر ہیں اور پاکستان نیوی میں بھی کام کرچکے ہیں۔ وہ گزشتہ تین برسوں سے دبئی میں کمپیوٹر کا کارو بار کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اچانک دبئی حکومت نے ممتاز رضوی کا اقامہ منسوخ کردیا اور انہیں پاکستان جانے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ممتاز رضوی تین جولائی سنہ دو ہزار چھ کو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ دبئی سے کراچی ائیر پورٹ اترے تھے اور امیگریشن کاؤنٹر پر سرکاری اہلکاروں نے ان کی اہلیہ کو اپنے بچوں کے ساتھ گھر جانے دیا اور انہیں بتایا کہ ممتاز رضوی کو پوچھ گچھ کے بعد جانے دیا جائے گا۔ تاہم اس وقت سے ممتاز رضوی کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

پاکستان میں پر اسرار طریقے سے گمشدگیوں کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

شیعہ رہنما نے کہا کہ عمران نقوی اور علی رضا بھی دبئی سے ڈی پورٹ ہو کر کراچی ائیر پورٹ پہنچے تو انہیں ایجنسیوں نے تحویل میں لے لیا اور آج تک ان دونوں افراد کا بھی پتہ نہیں چلاہے۔

عمران نقوی لاہور میں ہلاک کردیے جانے والے معروف شیعہ رہنما ڈاکٹر محمد علی نقوی کے بھانجے ہیں۔

وکیل امجد علی نے کہا کہ پانچ ماہ پہلے ان افراد کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں تھیں اور عدالت عالیہ نے پولیس حکام، وفاقی ہوم سیکرٹری اور محتلف انٹیلی جنس ایجنیسوں سے ان افراد کے بارے میں دریافت کیا تھا۔

لیکن انہوں نے عدالت عالیہ میں ان کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع نہ ہونے کی رپورٹ دی ہے۔ انکے مطابق یہ درخواستیں اب بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ملٹری انٹلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کو عدالت عالیہ میں طلب کیا تھا لیکن عدالت کو جواب دیاگیا کہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔

شیعہ رہنما نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی ان افرا دکی گمشدگی پر حکومت پاکستان اور تینوں بڑی انٹیلی جنس ایجنیسوں، ملٹری انٹیلی جنس، (ایم آئی) انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس ائی) اور انٹلی جنس بیورو سے آٹھ جنوری کو جواب طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں
دس لاپتہ افراد کی بازیابی
01 December, 2006 | پاکستان
عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد