عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے سرحدی شہر عمرکوٹ کے دو ہندوگزشتہ کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چیتن کمار اور گوردھن داس کو سول ڈریس میں ملبوس افراد لے گئے تھے۔ گھر والوں نے ان کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ چیتن کمار کے بیٹے شنکر بجیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹھارہ جولائی کی شام کو وہ اپنے گھر میں تھے کہ سول ڈریس میں آٹھ افراد گھر میں داخل ہوئے اور معلوم کیا کہ چیتن کون ہے۔ جب ان کے والد نے اپنی شناخت کروائی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیااور اہلکار انہیں ایک ڈبل کیبن گاڑی میں لیکر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ شنکر کے مطابق وہ جب عمرکوٹ تھانےگئے تو ایس ایچ او نے یہ کہہ کر مقدمہ دائر کرنے سے انکار کر دیا کہ انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کافی عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور بہت کم آتے جاتے تھے۔ چیتن بجیر کو اس سے قبل سن دو ہزار ایک میں سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں ریلوے لائن پر ہونے والے ایک بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دسمبر دو ہزار پانچ میں انہیں اس الزام سے سندھ ہائی کورٹ نے باعزت بری کردیا تھا۔ شنکر بجیر کا کہنا ہے کہ اس سےقبل بھی ان کے والد کو حراست میں لیکر غائب کردیا گیا تھا اور پندرہ دن کے بعد ان کے متعلق اس وقت معلوم ہوا تھا جب ٹی وی پر انہیں دہشت گرد کے طور دکھاگیا گیا۔ لیکن اس بار انہیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں اور کس کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وہ کبھی بھارت نہیں گئے ہیں اور نا ہی وہاں ان کا کوئی رشتے دار ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ ہندو ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ کیا جارہا ہو۔ شنکر کے مطابق ان کے چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ان کی دیکھ بھال چچا کرتے ہیں جو سرکاری اسکول میں استاد ہیں۔ گوردھن داس عرف جی ایم بھگت قوم پرست سیاست کرتے ر ہے ہیں اور آج کل وہ سماجی کاموں میں مصروف تھے۔ ان کی بیوی سیتا بائی نے بتایا کہ ان کے شوہر کو نو نومبر کو عمرکوٹ کی بازار میں حجام کی ایک دکان سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سیتا بائی کے مطابق ان کے شوہر بیمار ہیں اس دن بھی وہ ڈاکٹر کے پاس دوائی لینے گئے تھے۔ چھ ماہ قبل ان کے نوجوان بیٹے کی وفات ہوئی تھی جس کے بعد وہ گھر تک محدود تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارہ سال قبل جب وہ قوم پرست جماعت جئے سندھ میں سرگرم تھے ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک طویل قید کے بعد انہیں رہائی ملی تھی جس کے بعد انہوں نے سیاست چھوڑ دی تھی۔ عمرکوٹ بھارتی سرحد سے متصل سب سے بڑا شہر ہے۔ اس میں ہندو کمیونٹی کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اس شہر میں انٹلی جنس اداروں کی سخت نگرانی ہے اور اقلیتی برادری کےلوگوں کو حراساں کرنے کی شکایت عام بات ہے۔ | اسی بارے میں دس لاپتہ افراد کی بازیابی 01 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ09 December, 2006 | پاکستان تین مزید لاپتہ افراد رہا ہو گئے15 December, 2006 | پاکستان ’بھائی آئی ایس آئی کے پاس ہے‘23 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||