BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا مظاہرہ

لاپتہ افراد کے اہل خانہ
مظاہرین نے صدر مشرف اور امریکی صدر بش کے خلاف نعرے بھی لگائے
پاکستان میں پراسرار طور پر انٹیلیجنس اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ نےجمعہ کو بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے لال مسجد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرے کے شرکاء جو کہ خواتین اور بچے تھے انہوں نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے اور مطالبے درج تھے۔ مظاہرین نے صدر مشرف اور امریکی صدر جارج بش کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

جمعہ کو ہونے والے مظاہرے میں جنوبی پنجاب سے لاپتہ ہونے والے علی حسن اور اسامہ نذیر کے اہل خانہ بھی منظر پر آئے۔

اسامہ نذیر کے ضعیف والد نے کہا کہ ان کا بیٹا بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا کیا ایسا کرنا اسلامی ملک میں جرم ہے؟ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے ’مجھے میرا بچہ دے دو‘۔

بہاولپور سے لاپتہ ہونے والے علی حسن کی بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو انٹیلیجنس حکام نے تین برس قبل اٹھایا لیکن آج تک ان سے ملاقات تک نہیں کرائی گئی ہے۔

ان کے مطابق وہ کینسر کی مریضہ ہیں اور ہر ہفتے انہیں خون کی بوتل لگتی ہے اور ایسے حالات میں وہ بچے پالیں یا اپنی جان بچائیں؟

لاہور کے فیصل فراز کی بزرگ والدہ نے کہا کہ وہ بیوہ ہیں اور ان کی زندگی کا واحد سہارا ان کا بیٹا ہے۔ وہ چار ماہ سے سڑکوں پر پھر رہی ہیں لیکن انہیں انصاف نہیں ملا۔

شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے (فائل فوٹو)

کراچی کے ماجد اور سیف اللہ پراچہ کی بیگمات اور بچے رو پڑے اور کہا کہ ان کے شوہروں کو گوانتانامو بے میں رکھا ہوا ہے اور حکومت ان کی مدد نہیں کرتی۔ انہوں نے خاتون اول صہبا مشرف کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ اگر آپ کے شوہر تین برس سے لاپتہ ہو آپ کا کیا حال ہوگا۔

اٹامک انرجی کمیشن کے سائنٹیفک افسر عتیق الرحمٰن کی بزرگ والدہ اور بہن بھی مظاہرے میں شریک تھیں۔ ان کی بہن نے کہا کہ وہ چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں اور انہیں شادی کے روز اٹھایا گیا اور ابھی تک کچھ پتا نہیں چل رہا۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ان کے شوہر اسلام آباد سے پشاور تبلیغ کے لیے روانہ ہوئے لیکن دوبرس ہوچلے ان کے متعلق حکومت کچھ نہیں بتاتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پیاروں کا جرم یہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود پکے مذہبی لوگ ہیں۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی میاں اسلم، مولانا عبدالرشید غازی اور خالد خواجہ نے کہا کہ اگر بیسیوں لاپتہ افراد میں سے کسی کے خلاف بھی حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے فی شخص امریکہ کے حوالے کرنے کا پانچ ہزار ڈالر معاوضہ لیا ہے لیکن وہ ’ڈفینس آف ہیومن رائیٹس‘ کی جانب سے حکومت کو چھ ہزار ڈالر دینے کو تیار ہے اگر وہ انہیں رہائی دلوائیں۔

اسی بارے میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد