لاپتہ افراد کے اہل خانہ سراپا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی میں جمعرات کے روز پاکستان کی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو کے سامنے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے اہلخانہ کے پرامن مظاہرے کے دوران پولیس نے عمر رسیدہ افراد، معصوم بچوں اور خواتین کو زدوکوب کیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے احتجاج میں شریک خواتین اور معصوم بچوں سے شدید بدتمیزی کی اور انہیں دھکے دیئے۔ احتجاج کے دوران ایک مرحلے پر خواتین پولیس اہلکار اور احتجاجی خواتین گتھم گتھا ہوگئیں اور اس کشمکش میں انہوں نے چند احتجاجی خواتین کو زمین پر گرا دیا۔ پولیس اہلکاروں نے آمنہ مسعود جنجوعہ کے سولہ سالہ بیٹے محمد بن مسعود کی پتلون اتاردی اور اسی عالم میں انہیں اٹھا کر پولیس کی گاڑی میں پھینکا گیا۔ آمنہ مسعود کی معصوم بیٹی سمیت بعض بچے چیختے رہے اور خاصے خوفزدہ نظر آئے۔ اپنے بھائی کو چھڑوانے کے لیے معصوم عائشہ پولیس اہلکاروں کے سامنے روتے ہوئے ہاتھ جوڑتی رہی اور انہیں قرآن کا واسطہ دیتی رہی۔ کافی دیر کی بحث و تکرار کے بعد جب مظاہرین نے واپس جانے کا فیصلہ کیا تو پولیس نے محمد بن مسعود کو رہا کردیا۔ مسعود کے مطابق پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ گالیاں بھی دیتے رہے۔
مظاہرے میں پشاور سے آنے والے ایک ساٹھ سالہ بزرگ عبدالغفار پروانہ بھی شامل تھے اور انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا عبدالستار جوکہ ڈرائیور تھا اُسے سن دو ہزار ایک میں ایجنسی والے اٹھا کر لے گئے اور آج تک ان کا پتہ نہیں۔ ان کے ساتھ اپنی اہلیہ اور پوتا بھی تھا۔ پولیس والوں نے انہیں بات کرنے سے روکا لیکن صحافیوں کی مداخلت کے بعد پولیس والے پیچھے ہٹ گئے۔ بزرگ نے کہا کہ وہ چھ برسوں سے دھکے کھا کھا کر تھک گئے ہیں اور کہیں سے انصاف نہیں ملا۔ مظاہرین میں اٹک سے آنے والے محمد اسحٰق نے بتایا کہ ان کا بھائی محمد الطاف اٹامک انرجی کمیشن میں الیکٹریشن تھا اور ان پر ان کے ساتھیوں سے راز فاش کرنے کا الزام لگا کر پکڑوادیا اور تین برسوں سے وہ لاپتہ ہے۔ مظاہرے کی قیادت کرنے والی آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ وہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں فلیش مین ہوٹل کے قریب پہنچنا شروع ہوئے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار انہیں کہتے رہے کہ ہوٹل میں چلیں وہاں آپ کے ساتھی انتظار میں ہیں۔ ان کے مطابق جب مظاہرین ہوٹل میں جاتے تو پولیس انہیں بند کردیتی۔
آمنہ مسعود نے بتایا کہ بعد میں پولیس نے انہیں زدو کوب کیا اور مظاہرہ کرنے سے روک دیا اور مشورہ دیا کہ وہ گھر چلے جائیں۔ ان کے مطابق وہ چند خواتین کو ساتھ لے کر گھر جانے کا بہانہ بنا کر پولیس سے اجازت لے کر نکلیں اور بعد میں جی ایچ کیو کے سامنے چرچ کے دروازے پر احتجاجی مظاہرہ شروع کیا تو پولیس والے ان کے بیٹے کو گھسیٹ کر مارتے ہوئے لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نائب آرمی چیف جنرل احسن سلیم حیات سے ملنا چاہتے تھے کیونکہ ایک سو پانچ لاپتہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔ اس لیے وہ انہیں یاداشت نامہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے مطابق پولیس نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا اور پرامن مظاہرہ نہیں کرنے دیا۔ واضح رہے کہ اس مظاہرے کے بیشتر شرکاء مذہبی رجحان رکھنے والے ہیں اور ان کے رشتہ دار لاپتہ افراد پر القاعدہ اور طالبان کے حامی شدت پسندوں سے تعلقات کا شبہ ہے۔ |
اسی بارے میں ’وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ‘20 July, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث07 September, 2006 | پاکستان دس لاپتہ افراد کی بازیابی 01 December, 2006 | پاکستان پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ01 October, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ09 December, 2006 | پاکستان تین مزید لاپتہ افراد رہا ہو گئے15 December, 2006 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||