BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 January, 2007, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلیم بلوچ ایک مرتبہ پھر لاپتہ

جمہوری وطن پارٹی کے نائب صدر سلیم بلوچ
پاکستان میں سات ماہ بعد ریاستی اداروں کی قید سے رہا ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے نائب صدر سلیم بلوچ ایک مرتبہ پھر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ عید بھی نہ منا سکے۔

جے ڈبلیو پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عید سے ایک روز قبل اکتیس دسمبر کو سلیم لیاری میں فجر نماز کی ادائیگی کے بعد گھر جارہے تھے کہ خفیہ ادارے کے اہلکار جن کے ساتھ پولیس بھی تھی انہیں اٹھا کر لے گئے۔

اس واقعے سے ایک روز قبل سلیم بلوچ نے سندھ ہائی کورٹ میں حاضر ہوکر خفیہ ادارے کی تحویل اور ان سے مبینہ طور پر کی گئی زیادتی کا حلفیہ بیان جمع کروایا تھا۔

سلیم بلوچ پہلے رہنما تھے جنہوں نے رہائی کے بعد عدالت میں یہ بیان دیا تھا جبکہ ان کے ساتھ آزاد ہونے والے دیگر رہنماؤں نے عدالت سے اپنے مقدمات واپس لے لیے تھے۔

عدالت میں بیان
 سلیم بلوچ پہلے رہنما تھے جنہوں نے رہائی کے بعد عدالت میں یہ بیان دیا تھا جبکہ ان کے ساتھ آزاد ہونے والے دیگر رہنماؤں نے عدالت سے اپنے مقدمات واپس لے لیے تھے۔
جے ڈبلیو پی کے ترجمان کے مطابق سلیم نے عدالت سے جانی تحفظ کی بھی درخواست کی تھی لیکن اس بیان کے چوبیس گھنٹوں بعد انہیں اغوا کرلیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت میں انصاف کے حصول کے لیے سلیم بلوچ کی درخواست ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ سلیم کو اہلکار انتہائی درجے کی اذیت دیکر ہلاک کردیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے سلیم بلوچ کی ایک مرتبہ پھر حراست پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے وفاقی وزیر آفتاب شیرپاؤ کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ سلیم بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں خود کی غیرقانونی حراست اور تشدد کے بارے میں حقائق بیان کیے تھے اس وجہ سے انہیں ایک مرتبہ پھر حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلیم بلوچ کو غیرمشروط طور رہا کیا جائے، اگر ان پر کوئی الزامات ہیں وہ ظاہر کیے جائیں اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سلیم بلوچ سے وکلاء اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات کرائی جائے۔

دوسری جانب حیدرآباد سے جئے سندھ متحدہ محاذ کے ایک اور رہنما لاپتہ ہوگئے ہیں، بشیر شاہ گزشتہ دو سال تک روپوش تھے۔

ان کے بھانجے مختیار شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پچیس دسمبر کو ان کے ماموں کو حیدرآباد کے مرکزی علاقے حیدرچوک سے نامعلوم افراد لے گئے ہیں جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے حیدرآباد کے تمام پولیس تھانوں سے معلومات لی ہے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان کی حراست میں نہیں ہیں۔

مختیار شاہ نے بتایا کہ ان کے ماموں سندھ میں جئے سندھ متحدہ محاذ کے خلاف کارروائیوں کے بعد اسلام آباد چلے گئے تھے جہاں وہ دو سال تک رہے کچھ روز قبل والد کے انتقال کے بعد واپس آئے تھے۔

شاہی قلعہابتداء پنڈی کیس سے
پاکستان میں سیاسی گمشدگیوں کی تاریخ
 آصف بالادی سندھ ۔ آصف بالادی
وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ
احمد خان تینولاپتہ رہنما ظاہر
دو اور لاپتہ رہنما پولیس کی حراست میں ہیں
انصاف’بے بسی‘
غائب ہونے والے افراد کو انصاف کی توقع نہیں
عتیق کی والدہشاید وہ آ جائے۔۔۔۔
’لاپتہ‘ بیٹے کی راہ تکتے والدین کا سال کیسا رہا
لاپتہ افراد کے اہل خانہلاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
اسی بارے میں
’تمہیں کون بچانے آئےگا‘
20 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد