سلیم بلوچ ایک مرتبہ پھر لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سات ماہ بعد ریاستی اداروں کی قید سے رہا ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے نائب صدر سلیم بلوچ ایک مرتبہ پھر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ عید بھی نہ منا سکے۔ جے ڈبلیو پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عید سے ایک روز قبل اکتیس دسمبر کو سلیم لیاری میں فجر نماز کی ادائیگی کے بعد گھر جارہے تھے کہ خفیہ ادارے کے اہلکار جن کے ساتھ پولیس بھی تھی انہیں اٹھا کر لے گئے۔ اس واقعے سے ایک روز قبل سلیم بلوچ نے سندھ ہائی کورٹ میں حاضر ہوکر خفیہ ادارے کی تحویل اور ان سے مبینہ طور پر کی گئی زیادتی کا حلفیہ بیان جمع کروایا تھا۔ سلیم بلوچ پہلے رہنما تھے جنہوں نے رہائی کے بعد عدالت میں یہ بیان دیا تھا جبکہ ان کے ساتھ آزاد ہونے والے دیگر رہنماؤں نے عدالت سے اپنے مقدمات واپس لے لیے تھے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت میں انصاف کے حصول کے لیے سلیم بلوچ کی درخواست ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ سلیم کو اہلکار انتہائی درجے کی اذیت دیکر ہلاک کردیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے سلیم بلوچ کی ایک مرتبہ پھر حراست پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے وفاقی وزیر آفتاب شیرپاؤ کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ سلیم بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں خود کی غیرقانونی حراست اور تشدد کے بارے میں حقائق بیان کیے تھے اس وجہ سے انہیں ایک مرتبہ پھر حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلیم بلوچ کو غیرمشروط طور رہا کیا جائے، اگر ان پر کوئی الزامات ہیں وہ ظاہر کیے جائیں اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ دوسری جانب حیدرآباد سے جئے سندھ متحدہ محاذ کے ایک اور رہنما لاپتہ ہوگئے ہیں، بشیر شاہ گزشتہ دو سال تک روپوش تھے۔ ان کے بھانجے مختیار شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پچیس دسمبر کو ان کے ماموں کو حیدرآباد کے مرکزی علاقے حیدرچوک سے نامعلوم افراد لے گئے ہیں جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے حیدرآباد کے تمام پولیس تھانوں سے معلومات لی ہے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان کی حراست میں نہیں ہیں۔ مختیار شاہ نے بتایا کہ ان کے ماموں سندھ میں جئے سندھ متحدہ محاذ کے خلاف کارروائیوں کے بعد اسلام آباد چلے گئے تھے جہاں وہ دو سال تک رہے کچھ روز قبل والد کے انتقال کے بعد واپس آئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’تمہیں کون بچانے آئےگا‘20 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||