BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 January, 2007, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باقیوں کو بھی جلد ڈھونڈیں‘

سپریم کورٹ آف پاکستان
وزارتِ داخلہ کی جانب سے عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی گئی
پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کی سست رفتار پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو جلد تلاش کیا جائے۔


عدالت نے یہ ریمارکس لاپتہ افراد کی بازیابی کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران پیر کو دیے۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی گئی۔ مقدمے کی اگلی سماعت پندرہ جنوری کو ہوگی۔

لاپتہ افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں لیکن حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔

لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک اکتالیس افراد میں سے پچیس افراد تلاش کرلیا گیا ہے اور وہ اب آزاد ہیں جبکہ دیگر سولہ افراد کی تلاش کی کوششیں کی جاری ہیں۔ تاہم عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ دیگر لاپتہ افراد کو بغیر کسی تاخیر کے تلاش کیا جائے۔

ڈپٹی اٹانی جنرل نے عدالت کو یعقین دہانی کرائی کہ وزارت داخلہ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہے اور ان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد سے جلد دیگر افراد کی تلاش کریں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کی مخلصانہ کوششیں کی جارہی ہیں اور یہ کہ وزارتِ داخلہ تمام معتلقہ قانون نافذکرنے والے ادراوں کے ذریعے دیگر افراد کو تلاش کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کررہی ہے۔

سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے کئی عزیز عدالت میں موجود رہے۔ آمنہ مسعود نے، جنکے شوہر بھی لاپتہ ہیں، رہا ہونے والوں کی تعداد پر سوال اٹھایا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کی بیان کی ہوئی تعداد کو غلط بتاتے ہوئے انہوں نے عدالت سے کہا کہ اب تک صرف بائیس لوگوں کو رہائی ملی ہے۔ عدالت نے فریقین سے کہا کہ وہ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے بیان حلفی داخل کریں۔

بہت سارے لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں کا اصرار ہے کہ ان کے عزیز خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ایک سو سے زیادہ لاپتہ ہوئے افراد کے خاندان والوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان کے عزیز خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نےعدالت کو یہ بھی بتایا کہ رہا ہونے والے بعض لوگوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ خفیہ اداروں کی تحویل میں تھے۔ تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ ہوئے افراد کسی خفیہ ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں اور یہ کہ تمام اداروں نے اس سلسلے میں حلفیہ بیان دیا ہے۔

گزشتہ ماہ پراسرار طور پر انٹیلیجنس اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں لال مسجد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد