’ہمارے کارکن غائب ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی پاکستان نے دعوٰی کیا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے اس کے گیارہ کارکن غائب کردیے گئے ہیں جن کا سرکاری طور پر کوئی اتا پتا نہیں بتایا جا رہا۔ جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری امیرالعظیم کا کہنا ہے کہ تیس نومبر کو لاہور سے گجرات تک متحدہ مجلس عمل کی احتجاجی ریلی کو روکنے کے لیے پولیس نے جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے متعدد کارکنوں کو چوبرجی چوک لاہور سے گرفتار کیا تھا۔ جماعت اسلامی کے مطابق جوگیارہ افراد غائب ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ محمد یونس۔ مجاہد بدر، تقویم عبداللہ، محمد رمضان، خواجہ مسعود الہی، خلیفہ ثقافت، متوکل اللہ، اظہر میر، محمد بشیر، محمد توفیق جاوید اور محمد تاثیر احمد۔ انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے سات کارکن ہیں جن کو دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ امیرالعظیم نے کہا کہ لاہور کے علاقہ راجگڑھ کے رہائشی چار نوجوان بھی زیر حراست ہیں جنہیں پہلی بار گزشتہ سال میراتھن دوڑ کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے جب بھی متحدہ مجلس عمل احتجاج کی کال دیتی ہے پولیس ان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان لڑکوں کو گرفتار کرلیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چار لڑکوں کو تیس نومبر کو متحدہ مجلس عمل کی احتجاجی کال سے پہلے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا گیا اور دفعہ ایک سو چوالیس کے الزام میں لٹن روڈ تھانہ میں بند کردیا گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ان بارہ افراد کی رہائی کے لیے میجسٹریٹ کی عدالت میں ضمانت پر رہائی کی درخواست دی گئی تھی جبکہ جج نے جمعہ کے دن سماعت کرتے ہوئے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم پولیس نے ان بارہ افراد کو جیل بھجوانے کی بجائے لٹن روڈ تھانہ سے ساندہ تھانہ کی حوالات میں منتقل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی صبح جب ان افراد کے لواحقین انہیں ناشتہ دینے کے لیے تھانے گئے تو پتہ چلا کہ انہیں جنوبی پنجاب کی دور دراز جیلوں میں ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور میانوالی منتقل کردیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نے سرکاری طور پر یہ بتانے سے گریز کیا۔ سوموار کو میجسٹریٹ نے زیر حراست افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن پولیس ابھی تک ان افراد کا اتا پتہ نہیں بتا رہی۔ جب جماعت اسلامی کے لوگوں نے ان جیلوں کے حکام سے رابطہ کیا جہاں انہیں منتقل کرنے کی خبر ملی تھی تو انہوں نے بھی یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ یہ افراد ان جیلوں میں قید ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ملک میں صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت چار سو افراد غائب کیے گئے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں سرکاری ایجنسیوں نے کسی قانونی کاروائی کے بغیر اپنی حراست میں لیا۔ | اسی بارے میں لاہور: لاٹھی چارج اورگرفتاریاں30 November, 2006 | پاکستان بی بی سی کے نامہ نگار اسلام آباد سے اچلانک لاپتہ20 November, 2006 | پاکستان معلومات فراہم کرنے کی آخری مہلت10 November, 2006 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان ’وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ‘20 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||