BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گمشدگی پر ہائی کورٹ کا نوٹس

اختر مینگل
اختر مینگل کے چودہ کار کن کافی دنوں سے لا پتہ ہیں
بلوچستان کی ہائی کورٹ نے حب اور اوڈھ کے چودہ افراد کی گمشدگی کے بارے میں صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اور متعلقہ پولیس افسران کو نوٹس جاری کیا ہے۔

گم شدہ افراد سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل کے ساتھیوں میں سے ہیں۔

ان چودہ افراد کے وکیل ظہور شاہوانی نے بتایا ہے کہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی نےان کی درخواست پر نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ درخواست بشیر احمد کی طرف سے پیش کی گئی ہے اور جج نے آئندہ پیشی کی تاریخ پانچ فروری مقرر کی ہے۔

ان چودہ افراد میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن، سردار اختر مینگل کے ملازمین اور محافظ شامل تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق حب اور وڈھ سے بتایا گیا ہے۔

ایڈ وکیٹ ظہور شاہوانی نے بتایا ہے کہ سردار اختر مینگل کو اٹھائیس نومبر کو بلوچستان کے علاقہ حب کے قریب ساکران میں نظر بند کر دیا گیا تھا اور ان کی اس رہائش گاہ کو جیل قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تیئس دسمبر کو انھیں کراچی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

نظر بندی کے دوران ان کے ساتھ موجود افراد کو مختف جلیوں میں بھیج دیا گیا لیکن سردار اختر مینگل کی کراچی منتقلی کے بعد سے ان چودہ افراد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان چودہ افراد کی گمشدگی کی وجہ سے ان کے اہل خانہ پریشان ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نےگزشتہ سال تیس نومبر کو گوادر سے کوئٹہ تک لشکر بلوچستان کے نام سے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن پولیس نے اس لانگ مارچ سے پہلے جماعت کے کارکنوں اور قائدین کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے کوئی پندرہ سو افراد کو صوبے کی مختلف جیلوں میں گرفتار کیا گیا ہے جہاں ان سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا تی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بی این پی کے کوئی ترپن افراد کو نقص عامہ کے حوالے سے حراست میں لیا گیا ہے۔

ظہور شاہوانی نے بتایا ہے کہ ان چودہ افراد کے علاوہ دیگر چالیس سے زیادہ افراد کے حوالے سے بھی عدالت کو درخواستیں دی گئی ہیں جو نقص عامہ کے حوالے سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

بی این پی کے نائب صدر ساجد ترین کی دو بارضمانت ہوئی ہے لیکن انھیں تیسری بار بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کے سابق رکن رؤف مینگل اور سابق رکن صوبائی اسمبلی اکبر مینگل کو ژوب جیل میں رکھا گیا ہے جبکہ جماعت کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب کو لورالائی جیل میں رکھا گیا تھا لیکن ان کی صحت خراب ہونے کی وجہ سے انھیں کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
’ہمارے کارکن غائب ہیں‘
05 December, 2006 | پاکستان
دس لاپتہ افراد کی بازیابی
01 December, 2006 | پاکستان
مینگل استعفیٰ پیش نہ کرسکے
05 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد