BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اختر مینگل کو جیل بھیج دیا گیا

اختر مینگل
اختر مینگل کو صحافیوں سے دور رکھا گیا اور بات کرنے نہیں دی گئی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو پانچ جنوری تک جیل بھیج دیا گیا ہے۔

مینگل سردار کو ملٹری انٹلی جنس کے اہلکاروں پر تشدد کے الزام میں گرفتار کر کے حب سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔ انہیں منگل کو ایک بکتر بند گاڑی میں کڑے پولیس پہرے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا۔

اختر مینگل کو صحافیوں سے دور رکھا گیا اور بات کرنے نہیں دی گئی۔ مینگل کے وکیل سید غلام شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پر ایم آئی کے دو نائب حوالداروں کے اغوا اور تشدد کا الزام عائد کیاگیا ہے جنہوں نے ساہ لباس میں ان کا پیچھا کیا تھا۔

غلام شاہ کے مطابق انہوں نے جوابی مقدمہ دائر کرنے کے لیے درخواست دی تھی جو ہائی کورٹ میں التویٰ کا شکار ہے۔ کیونکہ مسئلہ اہلکاروں نے پیدا کیا اور مقدمہ الٹا اختر پر دائر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے سے قبل ہی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کو فیصلہ کرنے سے روکنے کی گذراش کی گئی۔

اختر مینگل کے عزیز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے

غلام شاہ کے مطابق ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو فیصلہ کرنے سے روکا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ جاری کیا اور اختر مینگل کو مفرور قرار دیا گیا۔ حالانکہ وہ پہلے سے ہی بلوچستان حکومت کی تحویل میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حراست کے دوران اختر مینگل کو تین دن تک سونے نہیں دیا گیا ہے اور ان کی آنکھوں پر تین دن تک سیاہ پٹی بندھی رہی اور انہیں جس کمرے میں رکھا گیا تھا وہاں بہت گند تھا اور شور و غل کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اختر مینگل کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔

اختر مینگل نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں جیل میں اے کلاس دی جائے مگر عدالت نے ان کی یہ بات نہیں مانی۔

سردار اختر سے ان کے چچا مہراللہ مینگل نے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اختر کے حوصلے بلند ہیں۔ ’حکمران چاہتے ہیں کہ ہم جھک جائیں اور اپنے مقصد سے دستبردار ہوجائیں مگر ہم سے یہ نہ ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس والوں نے جیسا کیا وہ ویسا ہی بھگتیں گے۔ ’وہ ان کے بچوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے، اب کوئی بھی شریف آدمی یہ تو معلوم کرے گا نہ کہ کون اس کے بچوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے‘۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں ہڑتال کا اعلان
25 December, 2006 | پاکستان
مینگل کے محافظوں کو عمر قید
09 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد