احتجاج جاری رہے گا: اختر مینگل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گھر میں نظر بند بلوچستان کے سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا مارچ پروگرام کے تحت جاری رہیگا، مگر اب اس کے پرامن ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیس نومبر کو گوادر میں جلسے کے بعد یہ مارچ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگا۔اگر وہ اس کی قیادت نہ کرسکے تو بلوچستان کے عوام کریں گے۔ کیونکہ یہ کیس فرد یا پارٹی کا مارچ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی یہ توقع تھی کہ حکومت گرفتاریاں کرے گی کیونکہ ان کی حرکات سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ وہ خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے پرامن احتجاج کا پروگرام بنایا تھا مگر اب اس کے پرامن ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں سے بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔ اب وہ مزید کارکن گرفتار کریں گے جتنا کرسکتے ہیں کریں گے۔ نظر بندی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں منگل کوگوادر کے لیے روانہ ہونا تھا، رات کو ایک بجے پولیس نےگھیراؤ کیا اور سرکار کا حکم پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے حکام کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے لیکن بعد میں بتایاگیا کہ گھر میں نظر بند کیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق ایم این اے رؤف مینگل بھی ان کے ساتھ ہیں اب وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ سرکار کب آتی ہے ۔ | اسی بارے میں مفاہمت کا کوئی امکان نہیں: مینگل27 August, 2006 | پاکستان ’بلوچ بگٹی کا خون معاف نہیں کرینگے‘26 August, 2006 | پاکستان بلوچستان:گرفتاریاں اور مظاہرے27 November, 2006 | پاکستان پشاور و قبائلی علاقوں میں احتجاج03 November, 2006 | پاکستان سول نافرمانی تحریک کا اعلان 19 September, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کروایا جائے: مینگل13 September, 2006 | پاکستان بی این پی نے استعفے دے دیئے04 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||