بی این پی نے استعفے دے دیئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین اسمبلی نےبلوچستان اسمبلی کے سیکرٹری کو اپنےاستعفے پیش کر دیئے ہیں جبکہ عبدالرؤف مینگل سوموار کی شام قومی اسمبلی میں اپنا استعفی پیش کریں گے۔ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر جمال شاہ کاکڑ اور ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی کے غیر موجودگی میں اراکین صوبائی اسمبلی اختیر حسین لانگو اور اکبر مینگل نے سوموار کے روز اپنے استعفے بلوچستان اسمبلی کے سیکرٹری کو پیش کر دیئے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز احتجاجی ریلیوں کے دوران اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کیا تھا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے دو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ایک ایک رکن ہے۔ عبدالرؤف مینگل سوموار کی شام قومی اسمبلی میں استعفی پیش کر دیں گے جبکہ ثنا بلوچ غیر ملکی دورے پر ہیں۔ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنا استعفی جلد از جلد فیکس کردیں گے۔ اختر حسین لانگو اور اکبر مینگل نے استعفے دینے کے بعد کہا ہے کہ اسمبلیوں میں وہ کچھ کام نہیں کر پا رہے تھے اور جو آواز وہ اٹھاتے اسے دبا دیا جاتا تھا اس کی واضح مثال فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے خلاف متفقہ طور پر منظور شدہ قرارداد ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اسی طرح بیشتر قراردادیں اسمبلی سے تو منظر ہوئیں لیکن فوجی حکمرانوں نے اپنے قلم سے فیصلے کرکے اسمبلیوں سے اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ان استعفوں کے بارے میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نےکہا کہ حزب اختلاف کی ایک جماعت کا اپنا فیصلہ ہے حکومت خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات کرائے گی۔ بی این پی کے استعفوں کے بارے میں مختلف سوال اٹھ رہے ہیں اور اس سلسلے میں دیگر بلوچ قوم پرست جماعتوں کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے قائدین سے رابطے کی کوشش کی لیکن رابطہ قائم نہ ہوسکا۔ بلوچستان اسمبلی میں اس وقت بلوچستان نیشنل پارٹی کے علاوہ نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد پانچ جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کی تعداد چار جبکہ ایک آزاد امیدوار بالاچ مری شامل ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین کی تعداد اس وقت چار ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد دو ہے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ایک رکن نسیم تریالی نا اہل قرار دیا گیا ہے اور ان کی نشست پر دوبارہ انتخابات بھی ہوئے لیکن تشدد کے واقعات کی وجہ سے تاحال اس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس پانچ ستمبر کو اسلام آباد میں ہورہا ہے جس میں بلوچستان کے حوالے سے مجلس عمل کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا مخلوط حکومت میں شام رہا جائے اور یا حکومت سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ اگر مجلس عمل مخلوط حکومت سے علیحدہ ہو جاتی ہے تو بلوچستان میں حکومت کے لیے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ا |
اسی بارے میں نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک 01 September, 2006 | پاکستان نواب اکبر بُگٹی کی تدفین01 September, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال01 September, 2006 | پاکستان تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا02 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||