سول نافرمانی تحریک کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور دیگر مرکزی سطح کی جماعتوں کے قائدین نے منگل کو کہا کہ جلد ہی حکومت کے خلاف سول نافرمانی تحریک شروع کی جائے گی۔ ان لیڈروں نے کہاکہ اس تحریک کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہوگا۔ سول نافرمانی تحریک سے متعلق فیصلے سے پہلے اے آر ڈی کے لیڈروں نے بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ کوئٹہ کے سراوان ہاؤس میں اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے رہنما راجہ ظفرالحق نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی اکثر باتیں درست ہیں۔ اس اجلاس میں کچھ فیصلے کیےگئے ہیں جن میں موجودہ حکومت کے خلاف سول نافرمانی تحریک شروع کرنا اور اسمبلیوں سے استعفے دینا شامل ہیں۔ لیکن اس کے لیے وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت اس کے بعد کچھ نہ کرسکے اور سارا نظام ٹھپ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ سول نا فرمانی تحریک کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ اس کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہو۔ اسمبلیوں سے استعفوں کے بارے میں راجہ ظفرالحق نے کہا کہ اس سلسلے میں ان لوگوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جو استعفٰی دینے کے حق میں نہیں ہیں اور یہ سب کچھ ہفتوں میں ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل بھی اس موقع پرموجود تھے ان سے جب اس ملاقات کے بارے میں پوچھاگیا تو انہووں نے کہا کے انہیں امید ہے کہ مرکزی قائدین بلوچستان کے تمام لوگوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو مطمئن کریں گے اور اس کے لیے کچھ وقت لگ سکتا ہے ۔ اس اجلاس میں اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کے علاوہ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد ، پونم عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف اور خاکسار تحریک کے رہنماوں نے شرکت کی ۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے کوئٹہ پریس کلب میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں متحد ہو جائیں کیونکہ اس وقت حالات انتہائی خراب ہیں اور پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ دوسروں کو تو متحد ہونے کے لیئے کہہ رہے ہیں لیکن خود پشتون جماعتوں سے اتحاد کیوں نہیں کرتے؟انہوں نے کہا کہ پیر کے روز جسلہ عام میں انہوں نے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے لیکن انہیں اس کا کوئی جواب نہیں ملا، لہذا اب یہ سوال پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے کیا جائے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ انہوں نے کہا کے انہیں پنجاب کو دو صوبوں میں بانٹنے پر کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن سینیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی متاثر نہ ہو اور دوسرا یہ کہ سینیٹ کو زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ | اسی بارے میں سیاسی وفاداریاں بدل رہی ہیں08 August, 2005 | پاکستان حکومت پر دھاندلی کے الزامات24 August, 2005 | پاکستان بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم 17 December, 2005 | پاکستان اے آر ڈی کے دو سربراہ08 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||