BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 November, 2006, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور و قبائلی علاقوں میں احتجاج

 مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نماز جمعہ کے بعد مدنی مسجد نمک منڈی سے نکالی گئی
متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر باجوڑ ایجنسی میں دینی مدرسے پر بمباری اور ہلاکتوں کے خلاف جمعے کو صوبائی درالحکومت پشاور اور قبائلی علاقوں میں اس سلسلے میں بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔


پشاور میں ایم ایم اے کے زیر اہتمام مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نماز جمعہ کے بعد مدنی مسجد نمک منڈی سے نکالی گئی جو کابلی چوک قصہ خوانی بازار میں جاکر جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔

ریلی جب کابلی چوک پہنچی تو وہاں پر جماعت اسلامی کی صوبائی رہنماؤں کے قیادت میں ایک جلوس پہلے سے موجود تھا جو بعد از نماز جمعہ مسجد مہابت خان سے وہاں پہنچا تھا۔

ریلی میں موجود ایم ایم اے کے کارکنوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر صدر پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اس موقع پر صدر پاکستان اور صدر بش کے خلاف سخت نعرہ بازی بھی کی۔

حکمراں اور عوام
 حمکران آج امریکہ کے سامنے سر جھکا کر زندگی گزار رہے ہیں لیکن پاکستان کی غریب مجاہد عوام امریکہ کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جی رہے ہیں
مولانا فضل الرحمان

ایم ایم اے کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ حمکران آج امریکہ کے سامنے سر جھکا کر زندگی گزار رہے ہیں لیکن پاکستان کی غریب مجاہد عوام امریکہ کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں حکومت ایک مجاہد مارے گی تو سو مجاہد اور پیدا ہونگے اس میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوگا۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماؤں مشتاق احمد خان اور حکیم عبدالوحید نے بھی خطاب کیا۔ پشاور میں اب تک ہونے والے مظاہروں میں یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے زیراہتمام بھی پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا جس کی قیادت صوبائی اور مرکزی رہنماؤں نے کی۔

ادھر لنڈی کوتل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق باجوڑ کے واقعہ پر احتجاج کرنے کےلیے جے یوآئی (ف) کی طرف سے مظاہرہ اور بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی اور دیگر غیر ملکیوں کو دیکھتے ہی گولی ماردی جائی گی۔

عینی شاہدین کا بیان
مدرسے پرحملہ ایسے لگتا تھا جیسے زلزلہ ہو
قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
طالبان جنگجو’ہم پر اللہ کا دباؤ ہے‘
اپنا دفاع کرنا شرعی فریضہ ہے: مولانا فقیر
مولوی فقیرمولوی فقیر کون؟
طالبان اور القاعدہ کومدد دینے کا الزام
باجوڑ کے زخمی
’حکومتی دعوے جھوٹ ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد