BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 November, 2006, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:گرفتاریاں اور مظاہرے

بلوچستان
’بی این پی (مینگل) کے جمہوری احتجاج کو روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں‘
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیاسی کا رکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے خلاف بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے گوادر سے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ ساحلی شاہراہ اور پسنی میں بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو گوادر آنے والے قافلوں کو روک رہے ہیں اور صوبہ بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف یہاں گوادر میں حکومت کی حلیف جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کی سالانہ تقریب کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب بی این پی مینگل کے جمہوری احتجاج کو روکنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے صوبے کے مختلف علاقے جیسے حب خضدار مستونگ سوراب اور دیگر اضلاع سے درجنوں سیاسی کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے عہدیدار جاوید بلوچ نے بتایا ہے کہ ان کی تنظیم کے سٹوڈنٹ لیڈر محی الدین بلوچ کو حب سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مستونگ میں بی این پی کے ضلعی صدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان گرفتاریوں کے خلاف خضدار، حب، مستونگ اور کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ادھر بی ایس او کے کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ہے۔

اس کے علاوہ مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب نیو کاہان کے علاقے میں پولیس نے چھاپہ مارا ہے اور گھر گھر تلاشی شروع کر دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور کئی بوڑھے لوگوں پر پولیس نے تشدد کیا ہے۔

کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالقادر تھیبو نے نیو کاہان میں چھاپے اور گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ اس طرح کی کسی کارروائی کا انھیں علم نہیں ہے۔

بلوچستان بھر میں جاری گرفتاریوں کے حوالے سے بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری یعقوب، بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں
بلوچستان: جھڑپوں کی اطلاعات
13 November, 2006 | پاکستان
بلوچستان اسمبلی کے چار سال
11 November, 2006 | پاکستان
بلوچستان میں تشدد جاری
15 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد