جے ڈبلو پی کے عہدیدار مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب محمد اکبرخان بگٹی کی ہلاکت کے بعد اب کئی عہدیداروں نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استفعے دیے ہیں۔ تاہم ارکان اسمبلی بدستور پارلیمنٹ کے ممبر رہیں گے کیونکہ کسی رکن نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ نہیں دیا۔ جمہوری وطن پارٹی کی قومی اسمبلی اورسینٹ میں ایک ایک نشت ہے اور صوبائی اسمبلی میں پانچ نشستیں ہیں۔ مستعفیٰ ہونے والوں میں ایک سینیٹراور صوبائی اسمبلی کے دو رکن شامل ہیں۔ کوئٹہ میں جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی نے بی بی سی کوبتایا کہ نواب محمد اکبربگٹی نے پاکستان میں بحالی جمہوریت کیلیے سیاسی اتحاد اے آر ڈی کےساتھ چلنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن نواب بگٹی کے مرنے کے بعد ان کے صاحبزادے جمیل بگٹی نے جس اندازمیں پارٹی عہدیداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تمام ارکان پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا وہ ایک غیر جمہوری عمل تھا لہذ ان سمیت دیگر سات عہدیداروں نے پارٹی عہدوں اور بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کافیصلہ کیا ہے۔
مستعفی ہونے والوں میں پارٹی کے سینئرنائب صدر منظورحسیں کھوسہ، جنرل سیکریٹری سینیٹر آغا شاہد حسین بگٹی، سیکریٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی، سیکریٹری لیبر سید محمد علی آغاسمیت دو ارکان صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔ امان اللہ کنرانی کے مطابق کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان عہدیداروں کی وجہ سے نواب بگٹی کے خاندان میں کوئی تنازعہ اٹھ کھڑا ہو۔ لہذایہ لوگ پارٹی سےمستعفی ہوئے ہیں تاکہ پارٹی انتشار سے محفوظ رہ سکے۔ ایک سوال کے جواب میں امان اللہ کنرانی نے کہا کہ پارٹی کے ٹکٹ پرمنتخب ہونے والے ارکان نہ صرف بدستور پارلیمتٹ کےممبر رہیں گے بلکہ وہ نواب بگٹی کی خواہش کے مطابق اے آر ڈی کا بھی ساتھ دینگے، کیونکہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔ امان اللہ کنرانی نے جمیل بگٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پارٹی کو اپنے باپ کی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد کا حصہ سمجھتے ہیں، وہی لوگ اب پارٹی کو چلائیں گے۔ اس سلسلے میں جب نواب بگٹی کے صاحبزادے جمیل بگٹی سے رابطہ قاہم کیا گیا توانہوں نے کہا کہ میں نے تو ان لوگوں سے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا کہا تھا دوسری صورت میں اگر ان پر کوئی دباؤ ہے تووہ بے شک پارٹی چھوڑدیں۔
’لیکن ان لوگوں نے پارٹی چھوڑ کر ثابت کردیا ہے کہ ان کی کچھ مجبوریاں ہیں‘۔ جمیل بگٹی نے کہا کہ نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد بھی یہ لوگ ابھی تک اسمبلی میں بیھٹے ہوئے ہیں اور ان کا اسمبلی سے مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہں ہے۔ ’لیکن اسمبلی سے استعفے نہ دینے والوں کے خلاف پارٹی کےآئین کے مطابق اب قانونی کارروائی ہوگی‘۔ جمہوری وطن پارٹی کےعہدیداروں کے استعفوں سے متعلق سوال پر نواب بگٹی کے بڑے صاحبزادے طلال بگٹی نے کہا کہ اسوقت ایجنسیاں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں اور بقول ان کے اس کھیل میں جمیل بگٹی کواستعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جمیل بگٹی چند دن قبل اسلام آباد گئے ہوئے تھے جہاں وہ شیر علی مزاری سے ملے ہیں ’جو ایجنسیوں کا آدمی ہے۔ جنہوں نے ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پارٹی کوختم کرنے کی سازش کی ہے‘۔ طلال بگٹی نے کہا کہ جمیل نواب بگٹی کے صاحبزادے ضرور ہیں مگر نواب بگٹی نے اپنی زندگی میں ہی ان کو سیاست سے الگ کر دیا تھا کیونکہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں۔
طلال بگٹی نے کہا کہ ’میں نہ تو جمہوری وطن پارٹی کا توممبر ہوں اور نہ ہی عہدیدار مگر میں نے مستعفی ہونے والے پارٹی عہدیداروں کے استعفے نامنظور کر دیے ہیں۔ واضع رہے کہ نواب محمد اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجاً سب سے پہلے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلیوں نے استعفے دیے تھے۔ نواب بگٹی دو ماہ قبل کوہلوکے علاقے بمبورمیں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں رؤف مینگل نے استعفیٰ دے دیا06 September, 2006 | پاکستان بی این اے اسمبلیوں سے مستعفی03 September, 2006 | پاکستان عید پر بلوچستان میں ’یوم سیاہ‘25 October, 2006 | پاکستان بلوچستان، سب سےملیں گے: دُرّانی13 October, 2006 | پاکستان حقوق کی لڑائی کے لیئے بلوچ جرگہ23 September, 2006 | پاکستان ’بگٹی مشرف کی ایما پر قتل ہوئے‘07 September, 2006 | پاکستان نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک 01 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||