دو بگٹی بہوؤں کے اثاثے منجمند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مرکزی بینک نے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی کی دو بہوؤں کے اثاثے منجمند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک حکم نامے میں ملک بھر کی بینک حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ فوزیہ خان زوجہ ریحان بگٹی (براہمداغ کی والدہ) اور مسز رضیہ بگٹی زوجہ سلیم بگٹی( میر عالی اور عبدو کی والدہ) کے اثاثے منجمند کیئے جائیں۔ مرکزی بینک نے پاکستان کی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان دونوں خواتین کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے، جو ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانچ اکتوبر تک اپنی کارروائی سے سٹیٹ بینک کو آگاہ کریں۔ انہیں خط میں یہ بھی کہا گیا ہے اس سے بھی آگاہ کیا جائے کہ ان خواتین کے کن بینکوں کی کونسی برانچوں میں یہ کھاتے ہیں، ان کے ٹائیٹل کیا ہیں اور ان میں کتنی رقم موجود ہے۔ واضح رہے کہ ایک ماہ قبل نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد سے ان کے پوتے براہمداغ، میر عالی اور عبدو لاپتہ ہیں۔یاد رہے کہ رہے کہ بگٹی خاندان کی ان خواتین کے بیرون ملک سفر پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں اکبر: مزاحمت اور المناکی کا تسلسل05 September, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر 50 کروڑ کانقصان11 September, 2006 | پاکستان صحافیوں کا ڈیرہ بگٹی کا دورہ23 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||