صحافیوں کا ڈیرہ بگٹی کا دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستانی سکیورٹی فورسزنے ڈیرہ بگٹی میں جاری فوجی آپریشن کے دوران گزشتہ پانچ ماہ میں 14 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا اسلحہ اور تخریبی مواد برآمد کیا ہے‘۔ ان خیالاب کا اظہار فرنٹیئر کور کے ترجمان کرنل محمد نعیم نے جمعہ کو ڈیرہ بگٹی میں کوئٹہ کے صحافیوں کو ایک گروپ بریفینگ دیتے ہوئے کیا۔ بلوچ رہنما نواب محمد اکبر بگٹی کےتدفین کے بعد کوئٹہ کے صحافیوں کو پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر ) کی نگرانی میں جمعہ کے روز پہلی بار ڈیرہ بگٹی شہر کادورہ کرایاگیا ـ تاہم انہیں عام لوگوں ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کوئٹہ سے ڈیرہ بگٹی روانگی سے قبل خالد ائیر بیس پر صحافیوں کو زیادہ سوالات نہ کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ ڈیرہ بگٹی پہنچنے کےفوراً بعد کرنل نعیم نے بریفینگ کا آغاز کیا اور بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ آٹھ ماہ کے آپریشن کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان زیر زمین بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے ھوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بارودی سرنگیں نواب بگٹی کے مسلح افراد نےضلع ڈیرہ بگٹی کےمختلف حصوں میں بچھا رکھی ہیں۔ انکے مطابق ایف سی اور عام لوگوں کا نوے فیصد جانی نقصان ان بارودی سرنگوں سے ہواہے۔ واضع رہے کہ نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ اس علاقے میں بگٹی قبائل اور حکومتی فورسز دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بارودی سرنگيں بچھا رکھی ہیں۔ لیکن دونوں کومعلوم نہں ہے کہ کس کس مقام پر یہ بارودی سرنگیں بچھی ھوئی ہیں۔
کرنل نعیم نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے اس آپریشن کے دوران 14 کروڑ روپے سے زیادہ اسلحہ اور دیگر تخریبی مواد برآمد کیا ہے۔ بقول انکے ’اتنا اسلحہ تو ایک بریگیڈ کے پاس بھی نہیں ہوتا جتنا کہ نواب بگٹی اور ان کے مسلح افراد کے پاس تھا‘۔ اسلحہ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ، اینٹی ایئرکرافٹ گن، راکٹ لانچرز ، اینٹی ٹینک مائن ، اور دیگر تخریبی مواد شامل ہے۔ ایف سی کے ترجمان کے مطابق انہیں اس وقت سے اسلحہ کی برآمدگی میں زیادہ کامیابی ہونا شروع ہوئی جب نواب بگٹی کے اہم کمانڈروں بنگان بگٹی اور سعید احمد نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نواب بگٹی کے ایک اہم کمانڈر بنگان بگٹی نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے دوران پانچ کروڑ روپے بھی جمع کروائے تھے جو بقول ان کے نواب بگٹی نے مزید اسلحہ خریدنے کے لیئے انہیں دیئے تھے۔
بریفنگ کے بعد جب صحافیوں نے نواب بگٹی کی قبر پر فاتحہ پڑنے کیلیئے جانے کی خواہش کی تو وہاں موجود آئی ایس پی آر کے کرنل اخترعباس نے کہا کہ ’جب ہم دوبارہ آئینگے تب صحافیوں کو نہ صرف نواب بگٹی کی فاتحہ کیلیئے لے جائینگے بلکہ شہر میں عام لوگوں سے بھی بات چیت کی اجازت دینگے‘۔ تاہم اس دوران مولوی ملوک کو صحافیوں کے سامنے لایاگیا جنہوں نے یکم ستمبر کو ڈیرہ بگٹی میں نواب محمد اکبر بگٹی کی نہ صرف نماز جنازہ پڑھائی تھی بلکہ صحافیوں کے سامنے یہ گواہی بھی دی تھی کہ انہوں نے نواب بگٹی کی لاش دیکھ کر اسکی شناخت کی تھی۔ مولوی ملوک سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ آپ نے صحیح طریقے سے نواب محمد اکبر بگٹی کی لاش تابوت میں دیکھی تو انہوں نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ میں نے تسلی کر لی تھی۔ ان کے مطابق اصل صورتحال تو( ڈی این اے) ٹیسٹ سے واضع ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر کرنل نعیم نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر نواب بگٹی کی لاش صحافیوں کودکھانے کے حق میں تھے تاہم انہوں نے لاش نہ دکھانے کی وجہ صرف اتنی بتائی کہ وہ زیادہ خراب ہو چکی تھی۔ ڈیرہ بگٹی کے بازار میں تمام دکانیں بند تھیں، زیادہ تر کے سائن بورڈ ٹوٹ چکے تھے لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر دکان کی چھت پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رھا تھا۔ تھوڑا آگے بڑھے تو نواب بگٹی کے قلعے کا بڑا دروازہ نظر آیا جس کو لوہے کی چادروں سے بند کیا گیا تھا۔ جہاں 30 دسمبر 2005 سے قبل لوگوں کا ایک جم غفیر ہوتا تھا وہاں اب مکمل خاموشی تھی۔ | اسی بارے میں ’فوجیوں نے ظلم کیا،سزاملنی چاہیے‘18 September, 2006 | پاکستان کوئٹہ: بگٹی ہلاکت پراحتجاجی جلسہ18 September, 2006 | پاکستان ’بلوچستان: مشرف اورفوج ذمہ دارہیں‘14 September, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر 50 کروڑ کانقصان11 September, 2006 | پاکستان حکومت بگٹی ڈی این اے کے لیئے تیار08 September, 2006 | پاکستان ’زندہ گرفتار کرنے کا حکم تھا‘29 August, 2006 | پاکستان نواب اکبر بگٹی کیسے مارے گئے؟29 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||