’بلوچستان: مشرف اورفوج ذمہ دارہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائیسز گروپ نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ حکومت پاکستان پر زور دے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی فوری طور پر بند کی جائے۔ برسلز میں قائم کرائیسز گروپ نے بلوچستان پر چودہ ستمبر کو ’پاکستان: بلوچستان کا مسلسل بگڑتا ہو تنازع‘ کے عنوان سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ پاکستانی کے وفاقی وزیرِاطلاعات محمد علی درانی نے اس رپورٹ بارے میں کہا ہے کہ ’اس طرح کی کئی تنظیمیں انٹرنٹ سے اطلاعات ڈاؤن لوڈ کر کے رپورٹیں تیار کر لیتی ہیں جس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے‘۔ گروپ نے رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ ’صدر پرویز مشرف اور فوج بلوچستان کے تنازع کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں‘۔ رپورٹ کے مطابق ’حکومت بلوچ حزب اختلاف سے نمٹنے کے لیئے پشتون مذہبی جماعتوں پر انحصار کررہی ہے جس سے اسلام پسند پشتون قوتیں مضبوط ہوئی ہیں‘۔ رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان حکومت پر زور دے کہ وہ اپنی ایسی تمام کارروائیاں ختم کرے جن سے عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور جن میں تشدد، غیر قانونی گرفتاریاں، حراستیں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں شامل ہیں۔ کرائیسز گروپ نے پاکستان کی عدالت عظمیٰ سے کہا ہے کہ وہ ایک اعلی سطح کا ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے جو چھبیس اگست کو بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات کرے۔
کرائیسز گرورپ نے بلوچستان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی فوجی حکومت کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی لڑائی صرف چند سرداروں سے نہیں بلکہ ایک وسیع البنیاد تحریک سے ہے جو سیاسی، معاشی اور سماجی اختیار حاصل کرنے کے لیئے کوشاں ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا یہی حل ہے کہ فوری طور پر حکومت فوجی کارروائی بند کرے، سیاسی اسیروں کو رہا کرے اور آئین میں دی گئی سیاسی آزادیوں کی ضمانت دے۔ کرائیسز گروپ نے جمعیت علمائے پاکستان کے مولانا فضل الرحمن گروپ کو پاکستان میں طالبان کا سرپرست اعلی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل مشرف کی سرکاری مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کی بلوچستان میں مخلوط صوبائی حکومت سے افغان اور پاکستانی طالبان کو نئی توانائی ملی ہے اور وہ بلوچستان کی سرحد کے پار بین الاقوامی فوجوں اور کابل حکومت پر حملے کر رہے ہیں۔ گروپ نے بین الاقومی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی بلوچستان کی لڑائی کے ملکی اور علاقائی مضمرات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور فوجی حکومت پر بھروسہ کررہے ہیں جو طالبان کے مخالف پشتونوں اور بلوچوں کو اپنا ہدف بنا رہی ہے اور طالبان کی حامی پشتون پارٹیوں کو نواز رہی ہے۔ کرائسز گروپ نے اپنی سفارشات میں پاکستان کی قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائے جو سیکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں طاقت کے غلط استعمال کا جائزہ لے اور اس کمیٹی میں حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد برابر ہو۔
گروپ نے قومی اسمبلی سے سفارش کی ہے کہ وہ ملک میں صوبائی خود مختاری اور وفاق کے استحکام کے لیئے اختیارات کی مشترکہ فہرست ختم کرکے اس میں دیئے گئے تمام امور صوبوں کے سپرد کردے اور ایک کثیر الجماعتی پارلیمانی کمیٹی بنائے جو ایک مقررہ مدت میں یہ سفارشات دے کہ وفاق کی فہرست میں بھی کون سے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جائیں۔ قومی اسمبلی سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گوادر میں زمین کی الاٹمنٹ، فروخت اور انتقال کی نگرانی اور اس کو باقاعدہ بنانے کے لیئے قانون سازی کرے۔ کرائیسز گروپ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ’بغاوت‘ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اسلام آباد بلوچوں کی جائز شکایات کے جواب میں فوجی کارروائی بند کرکے ان سے سیاسی اور معاشی خود مختاری پر مذاکرات نہیں کرتا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی جیسے رہنما کو ہلاک کرنے سے بلوچستان کی بغاوت میں مزید اضافہ ہوگا اور فوجی کارروائی جاری رہی تو لڑائی اور بڑھے گی۔ |
اسی بارے میں بلوچ استاد حراست میں ہلاک22 April, 2006 | پاکستان بلوچستان کی روشن تصویر02 March, 2005 | پاکستان بلوچستان کا معاشی منظرنامہ01 March, 2005 | پاکستان سوئی گیس، دولت یا محرومی27 February, 2005 | پاکستان بلوچ سردار، کون کس کا رشتہ دار26 February, 2005 | پاکستان چھاؤنیوں کی زمین کس کی؟25 February, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||