BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 September, 2006, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان: مشرف اورفوج ذمہ دارہیں‘

’حکومت بلوچ حزب اختلاف سے نمٹنے کے لیئے پشتون مذہبی جماعتوں پر انحصار کررہی ہے‘
ایک عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائیسز گروپ نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ حکومت پاکستان پر زور دے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی فوری طور پر بند کی جائے۔

برسلز میں قائم کرائیسز گروپ نے بلوچستان پر چودہ ستمبر کو ’پاکستان: بلوچستان کا مسلسل بگڑتا ہو تنازع‘ کے عنوان سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔

پاکستانی کے وفاقی وزیرِاطلاعات محمد علی درانی نے اس رپورٹ بارے میں کہا ہے کہ ’اس طرح کی کئی تنظیمیں انٹرنٹ سے اطلاعات ڈاؤن لوڈ کر کے رپورٹیں تیار کر لیتی ہیں جس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے‘۔

گروپ نے رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ ’صدر پرویز مشرف اور فوج بلوچستان کے تنازع کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق ’حکومت بلوچ حزب اختلاف سے نمٹنے کے لیئے پشتون مذہبی جماعتوں پر انحصار کررہی ہے جس سے اسلام پسند پشتون قوتیں مضبوط ہوئی ہیں‘۔

رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان حکومت پر زور دے کہ وہ اپنی ایسی تمام کارروائیاں ختم کرے جن سے عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور جن میں تشدد، غیر قانونی گرفتاریاں، حراستیں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں شامل ہیں۔

کرائیسز گروپ نے پاکستان کی عدالت عظمیٰ سے کہا ہے کہ وہ ایک اعلی سطح کا ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے جو چھبیس اگست کو بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات کرے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی
 رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان حکومت پر زور دے کہ وہ اپنی ایسی تمام کارروائیاں ختم کرے جن سے عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور جن میں تشدد، غیر قانونی گرفتاریاں، حراستیں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں شامل ہیں

کرائیسز گرورپ نے بلوچستان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی فوجی حکومت کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی لڑائی صرف چند سرداروں سے نہیں بلکہ ایک وسیع البنیاد تحریک سے ہے جو سیاسی، معاشی اور سماجی اختیار حاصل کرنے کے لیئے کوشاں ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا یہی حل ہے کہ فوری طور پر حکومت فوجی کارروائی بند کرے، سیاسی اسیروں کو رہا کرے اور آئین میں دی گئی سیاسی آزادیوں کی ضمانت دے۔

کرائیسز گروپ نے جمعیت علمائے پاکستان کے مولانا فضل الرحمن گروپ کو پاکستان میں طالبان کا سرپرست اعلی قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل مشرف کی سرکاری مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کی بلوچستان میں مخلوط صوبائی حکومت سے افغان اور پاکستانی طالبان کو نئی توانائی ملی ہے اور وہ بلوچستان کی سرحد کے پار بین الاقوامی فوجوں اور کابل حکومت پر حملے کر رہے ہیں۔

گروپ نے بین الاقومی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی بلوچستان کی لڑائی کے ملکی اور علاقائی مضمرات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور فوجی حکومت پر بھروسہ کررہے ہیں جو طالبان کے مخالف پشتونوں اور بلوچوں کو اپنا ہدف بنا رہی ہے اور طالبان کی حامی پشتون پارٹیوں کو نواز رہی ہے۔

کرائسز گروپ نے اپنی سفارشات میں پاکستان کی قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائے جو سیکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں طاقت کے غلط استعمال کا جائزہ لے اور اس کمیٹی میں حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد برابر ہو۔

بلوچستان میں مخلوط حکومت
 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل مشرف کی سرکاری مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کی بلوچستان میں مخلوط صوبائی حکومت سے افغان اور پاکستانی طالبان کو نئی توانائی ملی ہے

گروپ نے قومی اسمبلی سے سفارش کی ہے کہ وہ ملک میں صوبائی خود مختاری اور وفاق کے استحکام کے لیئے اختیارات کی مشترکہ فہرست ختم کرکے اس میں دیئے گئے تمام امور صوبوں کے سپرد کردے اور ایک کثیر الجماعتی پارلیمانی کمیٹی بنائے جو ایک مقررہ مدت میں یہ سفارشات دے کہ وفاق کی فہرست میں بھی کون سے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جائیں۔

قومی اسمبلی سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گوادر میں زمین کی الاٹمنٹ، فروخت اور انتقال کی نگرانی اور اس کو باقاعدہ بنانے کے لیئے قانون سازی کرے۔

کرائیسز گروپ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ’بغاوت‘ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اسلام آباد بلوچوں کی جائز شکایات کے جواب میں فوجی کارروائی بند کرکے ان سے سیاسی اور معاشی خود مختاری پر مذاکرات نہیں کرتا۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی جیسے رہنما کو ہلاک کرنے سے بلوچستان کی بغاوت میں مزید اضافہ ہوگا اور فوجی کارروائی جاری رہی تو لڑائی اور بڑھے گی۔

 بگتیبلوچ کہانی۔13
متعدد بلوچ سردار آپس میں رشتہ دار ہیں
بلوچ قبائلبلوچستان کے قبائل
اضلاع کا رقبہ اور قبائل کی آبادی کی تفصیل
بلوچ کہانی : 6
بلوچ جدید و منظم یا ’چاکلیٹ فائٹر‘
بلوچ کہانی - 4
بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟
بلوچستانبلوچ کہانی
بلوچ تحریک کے فوری اسباب کیا ہیں؟
بلوچبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر: دوسری قسط
بلوچ قوم پرستبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر میں: پہلی قسط
اسی بارے میں
بلوچ استاد حراست میں ہلاک
22 April, 2006 | پاکستان
بلوچستان کی روشن تصویر
02 March, 2005 | پاکستان
سوئی گیس، دولت یا محرومی
27 February, 2005 | پاکستان
چھاؤنیوں کی زمین کس کی؟
25 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد