BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رؤف مینگل نے استعفیٰ دے دیا

رؤف پیر کو قومی اسمبلی میں اپنا استعفیٰ پیش نہیں کر سکے تھے
پاکستان کی قومی اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے واحد رکن اسمبلی عبدالرؤف مینگل نے بدھ کو اپنا استعفیٰ سپیکر کو پیش کردیا ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرنے کے لیئے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو مداخلت کی اپیل کی اور کہا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔

استعفیٰ پیش کرنے سے پہلے ایوان میں آخری تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج چھ ستمبر کے موقع پر ملک بھر میں یوم دفاع منایا جا رہا ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان میں لوگ یوم سیاہ منا رہے ہیں۔

رؤف مینگل کی تقریر کے دوران ایوان میں مکمل خاموشی چھائی رہی اور تمام اراکین نے بغور ان کی تقریر سنی اور ایک جذباتی ماحول نظر آیا جب انہوں نے فوج پر تنقید کی اور مرحوم نواب بگٹی کو خراج پیش کیا تو حزب مخالف کے اراکین نے ڈیسک بجا کر انہیں داد دی۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کو بلوچ عوام سے نہیں بلکہ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے محبت ہے۔ مینگل نے کہا کہ وہ ایسے میگا پروجیکٹس پر لعنت بھیجتے ہیں جن سے بلوچوں کی ماؤں اور بہنوں کی عزت محفوظ نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ بلوچوں کے ساتھ انسٹھ برس سے سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے اور ماضی میں بھی انہوں نے اپنے حقوق کے لیئے سر پیش کیئے ہیں اور آئندہ بھی پیش کریں گے۔ ان کے مطابق قوموں کو فوج فتح نہیں کرسکتی جیت ہمیشہ قوم کی ہوتی ہے۔

انہوں نے منیر مینگل اور سینیٹر ثناء اللہ بلوچ کے بھائیوں سمیت کئی افراد کے لاپتہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور خفیہ ایجنسیوں پر الزام لگایا کہ وہ انہیں پکڑ کر لے گئی ہیں اور عدالتوں میں بھی انہیں پیش نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق عدالتیں اور پارلیمان بے بس ہے اور فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔

رؤف مینگل نے دعویٰ کیا کہ جسٹس احمد نواز مری اور اسلم گچکی کو خفیہ ایجنسیوں نے قتل کیا اور الزام نواب خیر بخش مری پر لگایا۔ ایوان کے اراکین، میڈیا اور اسمبلی کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا اور اللہ حافظ کہہ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔

 رؤف مینگل نے پیر کو استعفیٰ دینا تھا لیکن حافظ حسین احمد سمیت حزب مخالف کے بعض اراکین نے ان سے کہا تھا کہ ایک روز رک جائیں تو وہ بھی ساتھ مستعفی ہوں گے لیکن کسی رکن نے مینگل کے ہمراہ استعفیٰ پیش نہیں کیا۔

واضح رہے کہ رؤف مینگل نے رکن اسمبلی کے طور پر حلف لینے سے پہلے بھی احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ پنجگور میں تین بلوچ نوجوانوں کے قتل کی جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوگی وہ حلف نہیں اٹھائیں گے اور مستعفی ہوتے وقت بھی فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج کے طور پر مستعفی ہوئے۔

صوبہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے ’بی این پی‘ کے تمام منتخب اراکین نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور ان کے دو اراکین صوبائی اسمبلی اپنا استعفیٰ پیر کو پیش کرچکے ہیں۔

رؤف مینگل نے بھی پیر کو استعفیٰ دینا تھا لیکن حافظ حسین احمد سمیت حزب مخالف کے بعض اراکین نے ان سے کہا تھا کہ ایک روز رک جائیں تو وہ بھی ساتھ مستعفی ہوں گے۔ لیکن کسی رکن نے مینگل کے ہمراہ استعفیٰ پیش نہیں کیا۔

مینگل جب ایوان سے باہر جانے لگے تو حکومت اور حزب مخالف کے کئی اراکین انہیں ایوان کے دروازے تک چھوڑنے گئے۔

واضح رہے کہ حکومت نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ جو بھی رکن مستعفی ہوگا ان کی نشست خالی قرار دے کر الیکشن کمیشن سے ضمنی انتخاب کرانے کہا جائے گا۔

اسی بارے میں
مینگل استعفیٰ پیش نہ کرسکے
05 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد