مینگل استعفیٰ پیش نہ کرسکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی ’بی این پی‘ کے واحد رکن قومی اسمبلی عبدالرؤف مینگل کو استعفیٰ پیش کرنے سے حکومت اور حزب مخالف کے اراکین روکتے رہے اور ایوان میں بولنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ منگل کو بھی اپنا استعفیٰ پیش نہیں کرسکے۔ جب وہ استعفیٰ دینے کے لیئے اٹھے تو ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اب اذان ہوچکی ہے نماز کا وقت ہے اس لیئے اجلاس کی کارروائی کل تک ملتوی کی جاتی ہے۔ بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رؤف مینگل نے کہا کہ وہ تقریر کرکے اپنا احتجاج ایوان کی کارروائی میں ریکارڈ کراکے مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے ان سے کہا ہے کہ وہ ایوان کے بجائے سیکریٹری اسمبلی کو اپنا استعفیٰ پیش کریں لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان کے قومپرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے ’بی این پی، کے تمام منتخب اراکین نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور ان کے دو اراکین صوبائی اسمبلی اپنا استعفیٰ پیر کو پیش کرچکے ہیں۔ جبکہ رؤف مینگل نے جب پیر کو قومی اسمبلی کے ایوان میں اپنا استعفیٰ پیش کرنا چاہا تو حزب مخالف کے بعض اراکین نے ان سے کہا تھا کہ وہ ایک روز رک جائیں تاکہ مشترکہ طور پر مستعفی ہوا جاسکے۔ لیکن منگل کو جب وہ ایوان میں آئے تو انہیں حزب مخالف کے ساتھی باہر لے گئے اور انہیں مستعفی ہونے سے روکتے رہے۔ مینگل نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کا احترام کرتے ہیں تاہم پارٹی کے فیصلے کے آگے وہ وہ سر تسلیم خم کرتے ہیں اور ہر حال میں وہ بدھ کی صبح ایوان میں استعفیٰ پیش کردیں گے۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی منظور وسان اور شیر محمد بلوچ نے اکبر بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں خراج پیش کیا۔ انہوں نے بعض حکومتی اراکین کی جانب سے بگٹی کے قتل کو جائز قرار دیئے جانے پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ اس طرح کی تقاریر بنگلہ دیش بنتے وقت بھی کی گئی تھیں۔ شیر محمد بلوچ نے کہا کہ نواب بگٹی غدار نہیں بلکہ پاکستان بنانے والوں میں شامل تھے اور وہ انہیں سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے صوبے کے حقوق کے لیے جان دی ہے۔ منظور وسان نے کہا کہ آج وفاق کو خطرہ لاحق ہے اور چھوٹے صوبوں کی احساس محرومی بڑھ رہی ہے اور ایسے میں یہ کہنا کہ ’کوئی رہے نہ رہے پاکستان رہے گا‘ منفی پیغام دیتا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کی شام کو قومی اسمبلی میں حکومتی رکن علی اکبر وینس نے کہا تھا کہ انہوں نے کسی کو پاکستان میں شمولیت کے لیے منت نہیں کی تھی۔ جبکہ ایک اور رکن بشریٰ رحمٰن نے کہا تھا کہ پاکستان ہماری ماں ہے اور پرچم اس کا دوپٹہ ہے اور پرچم جلانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرنی چاہیئے۔ جس پر منطور وسان نے منگل کو کہا کہ اگر اس دوپٹہ کا احترام کرنا ہے تو صوبائی خود مختاری دینی ہوگی اور اس ماں کا دوپٹہ جلانے والوں کو موجودہ حکمرانوں نے خود گورنر بنایا ہے۔ تاہم انہوں نے صوبہ سندھ کے گورنر کا نام نہیں لیا۔ منظور وسان نے کہا کہ انہیں پنجاب سے شکایت نہیں ہے بلکہ پانچویں صوبے سے شکایت ہے جوکہ ان کے بقول فوج ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کے خلاف نفرت بڑھانے میں بھی اس پانچویں صوبے کا ہاتھ ہے۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||