BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 October, 2006, 02:04 GMT 07:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان، سب سےملیں گے: دُرّانی

محمد علی درانی
’سیاست سے فوج کا کردار ختم کرنے کے لیئے قائدین کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا‘
وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی کو فعال بنایا جائےگا اور ناراض ارکان کو اس میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

یہاں کوئٹہ میں افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیئے ہر ایک سے مذاکرات کے لیئے تیار ہے۔

اس موقع پر صحافیوں نے وفاقی وزیر سے بلوچستان کی صورتحال نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور وفاق کے رویے پر کئی سوالات کیے جس پر وفاقی وزیر نے یہی کہا کہ مرکزی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس وقت تقریباً ایک سو ساٹھ ارب روپے کے منصوبے بلوچستان میں شروع کیے گئے ہیں جن میں گوادر میگا پراجیکٹ اہم ہے، اس کے علاوہ چاغی کے قریب رکو دیک کے مقام پر سونا اور چاندی پیدا کرنے والے منصوبے سے بلوچستان کو پچیس فیصد حصہ دیا جائے گا۔

محمد علی درانی نے کہا کہ سیاست سے فوج کا کردار ختم کرنے کے لیئے قائدین کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت کے کسی وزیر کا پہلا دورہ ہے۔ کل وزیر اعظم شوکت عزیز بھی کوئٹہ پہنچ رہے ہیں جو یہاں صوبائی کابینہ سے ملاقات کریں گے اور صوبے کو درپیش مالی مسائل کا جائزہ لیں گے۔ وفاقی حکومت کے دعووں کے برعکس بلوچستان حکومت مالی بحران کا شکار ہے اور اس وقت تقریباً اٹھارہ ارب روپے سٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ لے چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد