BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: کالجوں کی حالت زار

کئی اساتذہ ایسے علاقوں میں کام کر رہے ہیں جہاں وہ میلوں دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں۔
صوبے میں تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے دعوے تو کیئے جا رہے ہیں لیکن صوبے میں سرکاری کالجوں کی صورتحال یہ ہے اگر کہیں عمارت ہے تو اساتذہ نہیں ہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں عمارتیں نہیں ہیں۔ اس وقت صوبے کے کالجوں میں کوئی ساڑھے چار سو سے پانچ سو اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

بلوچستان میں کل بہتر کالج ہیں اور ان کے لیے اساتذہ کی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد اایک ہزار نو سو ہے لیکن اس وقت کوئی ساڑھے چودہ سو سے پندرہ سو اساتذہ تعینات ہیں جبکہ باقی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

آل پاکستان پروفیسرز اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن کے صدر سراج احمد کاکڑ نے بتایا کہ حکومت اخباری بیانات کی حد تک بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک سو بیس اسامیاں اب پبلک سروس کمیشن کو دی گئی ہیں جو مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں اور اب یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومت اساتذہ کو اب ایڈہاک پر تعینات کرے گی جس میں اقربا پروری، ذاتی پسند نا پسند کے فیصلے ہوں گے اور میرٹ کو نظر انداز کیا جائے گا۔سراج احمر کاکڑ کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ کو میرٹ کے بغیر تعینات کیا گیا تو صوبے کے کالجوں میں تعلیم کا رہا سہا معیار بھی تباہ ہو جائے گا۔

سراج احمد کاکڑ نے کہا کہ اکثر علاقوں میں کالجوں کے لیے عمارتیں ہی نہیں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ بسیمہ، برشور، حرم زئی، زیارت، حب، خانوزئی گرلز کالج منگوچر، بوستان اور مسلم باغ وغیرہ میں کالج تو موجود ہیں لیکن عمارتیں نہیں ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ پھر وہاں کام کیسے ہوتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ایک سکول میں شام کے وقت دو کمروں میں تین سے چار اساتذہ جا کر پڑھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تہا کہ ایک انٹر کالج کے لیئے کم سے کم چودہ اساتذہ ہونے چاہییں لیکن تین سے چار اساتذہ کیا کریں گے جب ان کے پاس نہ بلیک بورڈ ہوں، نہ چاک، نہ لیبارٹری اور نہ ہی کوئی فرنیچر ہو۔

جب ا ن سے پوچھا گیا کہ بلوچستان میں اساتذہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے سیاست میں ملوث رہتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’اساتذہ بھی اسی صوبے کے رہنے والے ہیں ان میں کمزوریاں ہوں گی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے اساتذہ ایسے دور دراز علاقے میں کام کر رہے ہیں جہاں وہ میلوں دور سے پینے کا پانی بھر کر لاتے ہیں۔ وہ لوگ ایسے علاقوں میں بیٹھے ہیں جہاں کالج کی عمارت نہیں ہے اور کرائے کے مکانات کا تصور بھی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ وہاں بیٹھے ہیں تو ایسی صورت میں ان اساتذہ سے کراچی لاہور وغیرہ کے لیکچررز جیسی کارکردگی کی توقع کرنا جائز نہیں ہے۔

اساتذہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے سیاست میں ملوث رہتے ہیں

اس ساری صورتحال کے حوالے سےصوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دستیاب وسائل میں تعلیم کی بہتری کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ ’حکومت جانتی ہے کہ تعلیم کا معیار بہتر کیے بغیر ترقی اور حالات بہتر کرنے کے نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔‘

بلوچستان میں معیار تعلیم سے نہ اساتذہ،نہ طلباء اور نہ ہی ان کے والدین مطمئن ہیں۔ ہم نے جب اس سلسلہ میں مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر تعلیم سے رابطے کی کوشش کی تو ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ موجودہ حکومت کے وزراء دفاتر میں کم ہی نظر آتے ہیں۔

خصوصی ضمیمہ
فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت
بلوچستان بجٹ
انسٹھ ارب ستر کروڑ روپے کا خسارہ
اسی بارے میں
صوبائی خود مختاری کا مطالبہ
14 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد