BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 May, 2006, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: 7 لاکھ بچے تعلیم سے محروم

صوبائی وزیر تعلیم مولانا فضل علی
صوبائی وزیر تعلیم مولانا فضل علی
صوبہ سرحد میں سرکاری سروے کے مطابق سات لاکھ بچے مختلف وجوہات کی بناء پر سکول جانے سے محروم ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق سن دو ہزار دو میں یہ تعداد پندرہ لاکھ تھی جس میں گزشتہ چار برسوں میں کافی کمی آئی ہے۔

صوبائی حکومت نے یہ سروے گزشتہ برس کروایا تھا جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس گھر میں کتنے بچے سکول جانے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں تاہم ابھی تک ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا۔

اس سروے کے لیئے سرحد کے تقریبا تیس لاکھ گھرانوں کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم مولانا فضل علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح بڑھانے کے لیئے ان کی حکومت کئی اقدامات کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائمری سطح پر داخلے کی شرح اب اکسٹھ سے بڑھ کر بیاسی فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

’ایک تو ہم نے تعلیم میٹرک تک مفت کر دی تاکہ والدین کو ان کے اخراجات اٹھانے کی تکلیف نہ ہو، دوسرا ہم نے مفت کتابیں بھی مہیا کیں تاکہ والدین پر یہ بوجھ بھی نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ترغیب بھی دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اقدامات سے حالات کافی بہتر ہوئے ہیں‘۔

تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کوہستان اور بٹگرام جیسے دورا دراز پہاڑی علاقوں میں انہیں اب بھی مشکلات درپیش ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے ذہن میں سن دو ہزار پندرہ کا ایک ہدف ہے جس تک ان کی کوشش ہوگی کہ صوبے کا کوئی بچہ یا بچی سکول سے رہ نہ جائے۔

اس ہدف کو حاصل کرنے میں ایک بڑی مشکل وسائل کی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مولانا فضل علی کا کہنا تھا کہ تمام بچوں کو سکول لانے، تیس بچوں کے لیئے ایک کلاس، اور ایک ہزار بچوں کے لئے ایک سکول قائم کرنے کی شرح حاصل کرنے کے لیئے انہیں ستاون ارب روپے درکار ہوں گے۔

صوبائی حکام کے مطابق سن دو ہزار دو میں سکول نہ جا سکنے والے بچوں کی تعداد پندرہ لاکھ تھی

صوبائی حکومت کی جانب سے میٹرک تک مفت تعلیم اور مفت کتب کی فراہمی سے صوبے میں داخلے کی شرح میں پانچ فیصد یعنی پانچ لاکھ بچوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال حکومت تینتیس لاکھ بچوں کو مفت درسی کتب فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ دورافتادہ علاقوں جیسے کہ کوہستان، بٹگرام، دیر، چترال اور شانگلہ میں خواتین استانیوں کو ڈیوٹی دینے کی ترغیب دینے کے لیئے ایک ہزار روپے کا اضافی الاونس اور دیگر مراعات دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔

صوبہ سرحد میں اس وقت چھبیس ہزار سرکاری سکول کام کر رہے ہیں۔ ان میں سرکاری اعداوشمار کے مطابق تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کی تعداد بتیس لاکھ ہے۔

صوبائی حکومت چند روز بعد پیش ہونے والے صوبائی بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیئے مختص رقم میں بیس فیصد کا اضافہ کرکے اسے انیس ارب روپے تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

البتہ سرحد حکومت نے مرکزی حکومت سے آئندہ بجٹ میں تعلیم کے لیئے ترقیاتی بجٹ کا چار فیصد مختص کرنے کی درخواست کی ہے جس سے صوبے کو امید ہے کہ اسے اضافی فنڈز مہیا ہوسکیں گے۔

جاوید اشرف قاضیوزیر کا انکشاف
ملک میں ڈیڑھ سو غیر قانونی تعلیمی ادارے
مدرسہ ڈائری
صرف اسلامی تعلیم پر زور کیوں؟
تعلیم ضروری ہے
ڈی آئی خان والے لڑکیوں کی تعلیم کے حمایتی ہیں
ڈاکٹر عطا الرحمٰن اعلیٰ تعلیم کا اندھیرا
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا اندھیرا ہے
اسی بارے میں
انتخاب لڑنے کی مشروط اجازت
12 August, 2005 | پاکستان
تعلیم اچھی، ملازمت بری
27 March, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد