BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 March, 2005, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیم اچھی، ملازمت بری

News image
شگفتہ سلیمان ڈیرہ اسماعیل خان کے گرلز ہائر سیکنڈری سکول نمبر ٹو میں دسویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ وہ ہر روز اس امید پر سکول آتی ہیں کہ ایک دن انہیں اسی طرح کے کسی سکول میں نوکری مل جائیگی۔ وہ لیکچرار بننا چاہتی ہیں۔

یہ خواب صرف شگفتہ کا ہی نہیں انکی والدہ نورالنسا کا بھی ہے۔ جو شدید غربت کے باوجود اپنے آٹھ بچوں کو ، جن میں چار بیٹیاں شامل ہیں، تعلیم دلوانا چاہتی ہیں۔

ان کے شوہر آلو چنے کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ وہ روز صبح ساڑھے تین چار بجے اٹھ کر اپنے شوہر کو چنے اور آلو ابال کر دیتی ہیں۔ اور دن میں پاپڑ بناتی ہیں تاکہ بچوں کی پڑھائی کے پیسے نکل سکیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ جنوبی صوبہ سرحد کا مرکزی شہر ہے۔ لیکن اس صوبے کے بارے میں باہر کے لوگوں کے تاثرات کے بر عکس کم از کم ڈیرہ اسماعیل خان میں لوگ اپنی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

عید نواز گریڈ چار کے ملازم تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک سٹور پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پانچوں بیٹیوں کو پانچویں جماعت تک تعلیم دی۔ اس سے آگے پڑھانے کو انکا دل تو بہت چاہتا تھا لیکن انکے وسائل نہیں تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے بازار میں کھڑے ہو کر اگر آپ لوگوں کے خیالات معلوم کریں تو اکثر لوگ لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی بیٹیوں سے نوکری نہیں کروانا چاہتے۔

اقبال کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے جوان ہوتے ہی ان کی شادی کر دینی چاہئے۔ اور وہ نہیں چاہیں گے کہ انکی بہو یا بیٹیاں نوکری کریں۔ لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ تعلیم ضروری ہے کیونکہ ’اس سے لڑکیوں میں زندگی گزارنے کا شعور آ جاتا ہے۔‘

جب کہ نورالنساء کا کہنا تھا کہ لوگ آج کل شادیوں کے لیے بھی لڑکی کی تعلیم پوچھتے ہیں۔

لیکن غربت اور وسائل کی کمی کے باعث علاقے میں تعلیم یافتہ خواتین کی شرح 1998 کی مردم شماری کے مطابق اٹھارہ فیصد سے بھی کم ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر عبدالرحیم خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسی وجہ سے سکولوں میں دسویں جماعت تک تعلیم مفت کردی ہے اور کتابیں بھی مفت مہیا کرنی شروع کر دی ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت باتیں زیادہ اور کام کم کر رہی ہے۔

ممتاز شیرازی نے ایک غیر سرکاری تنظیم ایس پی او کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان کے دیہاتوں میں تعلیم نسواں پر کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ کہنے کو تو حکومت بچوں کو مفت کتابیں دے رہی ہے لیکن دیہاتوں میں کسی کے پاس انگریزی کی کتاب نہیں تو کسی کے پاس حساب کی۔ یوں سمجھیے کہ ڈیمانڈ کے مقابلے میں حکومت کی طرف سے مفت کتابیں ’آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔‘

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں غربت اتنی زیادہ ہے کہ لوگ بغیر فیس اور مفت کتابوں کے باوجود وہ بچیوں کے سکول کے دیگر چھوٹے موٹے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

جہاں والدین اخراجات کا رونا روتے ہیں وہاں ننی منی بچیاں اپنے دل میں مختلف قسم کی حسرتیں چھپائے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے قریب ایک گاؤں کوٹلاں سیداں کی ایک بچی کی خواہش ہے کہ اس کے سکول میں جھولے بھی ہوں۔

لیکن اسکی یہ حسرت پوری ہونے کے امکان بہت کم ہیں کیونکہ ڈی ای او عبدالرحیم کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ سکولوں میں جھولے لگوائے۔

شہر سے جتنا دور جائیں۔ وسائل و مسائل کی یہ جنگ اتنی ہی شدید ہوتی جاتی ہے۔ چنانچہ ڈی آئی خان سے پچاس ساٹھ کلومیٹر دور ایک گاؤں گرہ شہباز میں پرائمری سکول تو ہے لیکن نہ ہونے کے برابر۔

سکول کی عمارت تین کمروں کا ایک ایسا کھنڈر ہے جس کی نہ کھڑکیوں پر شیشے ہیں اور نہ چوکھٹوں میں دروازے۔ بلیک بورڈ کے بغیر ٹوٹے پھوٹے کمرے لگتا ہے بچوں کی تعلیم سے زیادہ ڈھور ڈنگر پالنے کے کام آتے ہیں کیونکہ انکی نا ہموار زمین پر بکریوں کی مینگنیاں بکھری ہیں۔

اسی زمین پر بیٹھ کر اس سکول کی بچیاں روز انتظار کرتی ہیں کہ شاید ان کی استانی آ جائیں۔ کیونکہ اس سکول کی استانیاں، گاؤں والوں کے مطابق ہفتے دو ہفتے میں کبھی ایک چکر ہی لگاتی ہیں۔

یونین کونسل رنوال کے عبدالغفور کہتے ہیں کہ جب استانیوں سے پوچھا جاتا ہے کہ ایسا کیوں ہے تو وہ کہتی ہیں کہ یہ سکول انکے گھر سے دور ہے۔ آنا جانا مشکل ہے اور انکے بھی چھوٹے بچے ہیں۔ گاؤں کے ناظم ملک عظمت کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ خود اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور متعلقہ حکام سے مل رہے ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

عبدالغفور اسکی وجہ بد عنوانی بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ اساتذہ نے محکمہ تعلیم میں پیسے کھلائے ہوئے ہیں۔ وہ گھر بیٹھے تنخواہ لیتی ہیں اور انکی کوئی پوچھ گچھ نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انکے اپنےگاؤں چھینا کا پرائمری سکول پندرہ سال سے بند پڑا ہے۔ لیکن استانیوں کی تنخواہ اور بجلی کے بل دیے جا رہے ہیں۔

لیکن غیر سرکاری تنظیم ای سی او میں کام کرنے والے شیرازی کہتے ہیں اساتذہ کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیہاتوں کے سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہ اکثر بہت کم ہوتی ہے۔ چونکہ گاؤں میں پڑھی لکھی لڑکیاں مشکل سے ملتی ہیں اس لیے شہر سے استانی رکھنی پڑھتی ہے جس کے لیے وہاں آنا جانا نہ صرف بہت مشکل ہوتا ہے بلکہ مہنگا بھی پڑتا ہے۔

اساتذہ کے مسائل ایک طرف لیکن ان کے سکول نہ پہنچنے کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی اتنی زیادہ متاثر ہوتی ہے کہ گرہ شہباز ہی میں رہنے والی ان کے مڈل سکول کی استانی فرزانہ شاہین کہتی ہیں کہ جب ان کے پاس پانچویں جماعت میں بچے آتے ہیں تو انہیں اپنا نام تک نہیں لکھنا آتا۔

شیرازی اسکا حل یہ بتاتے ہیں کہ اساتذہ اول تو اسی کونسل سے ہوں۔ اور جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں انہیں ہاسٹل کی سہولت یا آنے جانے کا کرایہ دیا جائے۔

جہاں اساتذہ مقامی ہوں وہاں دوسری نوعیت کے مسائل ہوتے ہیں۔ پروین بی بی گرہ شہباز ہی کی رہنے والی ہیں اور ایک قریبی گاؤں میں پرائمری سکول کی ٹیچر ہیں۔ ٹیچر کیا ہیں سکول کی انتظامیہ، پرنسپل سب کچھ وہی ہیں۔

ایک کمرے میں کچی سے پانچویں جماعت تک کی سو سے زیادہ بچیاں بیک وقت ان سے پڑھتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کہتی رہتی ہے کہ معائنہ ہوگا اور تعداد کا اندازہ لگا کر مزید پوسٹیں نکالی جائیں گی لیکن اب تک کچھ نہیں ہوا۔

ڈی ای او عبدالرحیم کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں اگرچہ پرائمری سکول تو چار سو بائیس ہیں لیکن ہائی سکول صرف اکیس۔ اور ہائر سیکنڈری سکول تین۔ یعنی وہ بچیاں بھی جو سکولوں میں داخل ہوتی ہیں، جوں جوں بڑی جماعتوں میں آتی ہیں، ان پر تعلیم حاصل کرنے کے راستے تنگ ہوتے جاتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے قریبی دیہات کوٹلاں سیداں کے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول پڑھنے والی ایک بچی عالیہ نورین کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے۔ اس کے گاؤں میں کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں۔

لیکن اس کا یہ خواب اس وقت ادھورا رہ گیا جب آٹھویں جماعت کے بعد اسے اپنی تعلیم اس لیے چھوڑنی پڑی کہ ہائی سکول اس کے گاؤں سے دور تھا اور بس تک جانے کے لیے بھی بہت لمبا اور خراب راستہ طے کرنا پڑتا تھا۔ اس کی اپنی مرضی ہوتی تو وہ یہ مشکل بھی شاید ہنسی خوشی جھیل جاتی لیکن اس کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ صرف اسی صورت میں اسے ہائی سکول جانے کی اجازت دے سکتے ہیں جب بس گھر سے آ کر اسے لے جائے۔

علم حاصل کرنے میں مسائل صرف پرائمری، مڈل اور ہائی سکول تک محدود نہیں۔ بلکہ کالج جانے والی لڑکیاں بھی ایسے ہی مسائل کا شکار ہیں۔

مہوش بتول بی اے پاس ہیں۔ بچپن سے انکا خواب تھا کہ وہ سی ایس ایس کر کے جج بنیں۔ مگر انکے پاس بی اے کے بعد ایم اے میں داخلے کی فیس نہیں تھی۔ اب وہ کسی ایسی نوکری کی تلاش میں ہیں جس کے ساتھ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تمام ممکنہ کمپنیوں اور پوسٹوں پر درخواستیں دینے کے باوجود انہیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔

ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ سرحد کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں صوبے میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ جب یہاں غریب لڑکیوں کے ادھورے خوابوں کی باز گشت اتنی اونچی ہے تو اور جگہ کیا حال ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد