’تعلیمی نصاب ازسرِ نو مرتب ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے تعلیمی نصاب کو اگلے برس کے وسط سے از سر نو مرتب کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ دینے سے متعلق مواد خارج کر دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم جنرل جاوید اشرف قاضی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا نصاب جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ سال تک نصاب پر نظر ثانی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے پاکستان کی تعلیم بہت پیچھے رہ گئی۔ وفاقی وزارت تعلیم کے ترجمان مبشر حسن کے مطابق اسلامیات کی کتابوں سے نماز پڑھنے کی تمام تصاویری ہدایات اور تصاویر کو کتابوں سے نکال دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس سے فرقہ واریت میں کمی ہوگی۔ اس بارے میں وفاقی وزیر تعلیم سے جب پوچھا گیا کہ نماز کے طریقہ کار کو نصاب سے خارج کرنے کے پیچھے کیا منطق ہے تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اس اصول پر عمل کیا جائے گا جس کے مطابق بچوں کو مذہب وہ پڑھایا جائے گا جو حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جواس کے بعد کی چیزیں ہیں، جو فرقے بنے ہم ان میں سے کسی کی تعلیم سکول میں نہیں دیں گے۔ وہ ماں باپ پر ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق اپنے بچوں کو تربیت دیں لیکن سکول میں وہی چیز پڑھائی جائے گی جو سب مسلمان بچے پڑھ سکیں اور جس پہ کسی کا اختلاف نہ ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں قرانی آیات شامل رہیں گی اور نہ ہی کسی کو ان پر اعتراض ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ آیات متعلقہ ہونی چاہییں۔انہوں نے کہا کہ سائنسی علوم میں صرف متعلقہ آیات شامل کی جائیں گی۔ | اسی بارے میں متنازع نظم پر بحث جاری07 December, 2005 | پاکستان کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان نصابی کتاب میں جارج بش پر نظم01 December, 2005 | پاکستان ’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں30 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||