متنازع نظم پر بحث جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی گیارھویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں شامل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی تعریف میں متنازعہ نظم ’دی لیڈر‘ کے بارے میں انٹرنیٹ پر مختلف بلاگ میں بحث جاری ہے اور اس نظم کو لکھنے والے شاعر نے بذاتِ خود اس ویب سائٹ پر جہاں سے یہ نظم ڈاؤن لوڈ کر کے پاکستانی نصاب میں شامل کر لی تھی اس بحث کے بارے میں اپنی وضاحت کی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت تعلیم نے اس نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا حکم دیا ہے اور توجیہہ پیش کی ہے کہ یہ نظم غلطی سے انٹرنیٹ پر سے ڈاؤن لوڈ کر کے نصاب میں شامل کی گئی تھی۔ یہ نظم آر ایچ ایل سکول نامی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کی گئی تھی اور اس پر باب نامی شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نظم انہوں نے سن دو ہزار تین میں اس وقت لکھی تھی جب امریکی صدر نے عراق پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظم کو پاکستانی نصاب میں شامل کرنے کے لیے پاکستان کی وزارت تعلیم نے ان سے کوئی باضابطہ اجازت نہیں مانگی تھی۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اس سارے معاملے میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس تنازعے کے بعد انہوں نے اس ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ یہ نظم امریکی صدر کے بارے میں ہے۔ باب نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سارے معاملے کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بعض ویب سائٹس پر اس نظم کی پیروڈی بھی شائع کی گئی ہے۔ ’ڈیلی کوز‘ نامی ایک بلاگ ویب سائٹ پر اس نظم کی پیروڈی ’دی فیڈر‘ کے نام سے لکھی گئی ہے جس میں امریکی صدر کی رہنما صلاحیتوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
اس ویب سائٹ پر اب تک سترہ بلاگ اس نظم کے بارے میں آچکے ہیں۔ ’اوتھینٹک پرسنیلٹی‘ نامی ویب سائٹ پر بھی اس بارے میں بلاگ میں لوگوں نے اس نظم کے بارے میں کہا ہے کہ یہ بہت بے ہودہ ہے۔ ایک بھارتی ویب سائٹ ’واڈیاز‘ میں لکھا گیا ہے کہ بھارت میں کم از کم اپنے لیڈروں کے بارے میں نصاب میں پڑھایا جاتا ہے جو حکومت کے ساتھ تو بدلتے ہیں مگر اپنے ہی رہتے ہیں۔ ایک پاکستانی بلاگ’ سمیعز پیڈ‘ میں لکھا گیا ہے کہ کیونکہ پاکستان میں تعلیم کے لیے امریکہ پیسے دے رہا ہے لہذا پاکستانی حکومت نے ان کو خوش کرنے کے لیے یہ نظم نصاب میں شامل کی ہے۔ گیارھویں جماعت کی اس کتاب کو مرتب کرنے والے راولپنڈی کے گورڈن کالج کے انگریزی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ محمد اسلم گوندل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظم اس کتاب میں نادانستہ طور پر شامل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق ان کو اندازہ نہیں تھا کہ اس نظم کو لوگ اس طرح بھی پڑھ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کُل بیس نظمیں وفاقی وزارت تعلیم کو اس کتاب کے لیے بھجوائی تھیں جن میں سے دس نظمیں اشاعت کے لیے منظور کی گئیں جس میں یہ نظم بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم میں پورے پاکستان کے ممتاز تعلیمی ماہر کسی کتاب کو چھاپنے سے پہلے اس کی جانچ کرتے ہیں کہ اس میں کوئی قابل اعتراض مواد تو شامل نہیں ہے جس کے بعد کتاب چھاپی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں نصابی کتاب میں جارج بش پر نظم01 December, 2005 | پاکستان کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||