BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 December, 2005, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں

بش پر نظم کا عکس
انگریزی کی کتاب میں امریکی صدر کی شان میں نظم لکھی گئی ہے
پاکستان کی وزارت تعلیم نے گیارہویں جماعت کے لیے شائع کی گئی انگریزی کی نئی کتاب میں امریکی صدر کی شان میں لکھی گئی نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس نظم کو نصاب میں شامل کرنے سے متعلق وزارت تعلیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ متنازعہ نظم اس کتاب کو مرتب کرنے والوں نے ’غلطی‘ سے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے نصاب میں شامل کی تھی۔

وزارت تعلیم کے ترجمان مبشر حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو وفاقی وزیر تعلیم جنرل جاوید اشرف قاضی کی زیر صدارت ایک اجلاس اس نظم کو نصاب میں شامل کیے جانے سے متعلق ہوا جس کے بعد اس نظم کو نصاب میں شامل کرنے والے مرتبین کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی متنازعہ نظم کو نصاب میں شامل کرتے وقت احتیاط کریں۔

نظم کا عکس

اس کتاب کو چھاپنے والے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سیکریٹری اسلم راؤ کے مطابق کسی بھی نظم کو نصاب میں شامل کرنے سے پہلے اس کو وزارت تعلیم کے نصابی ونگ کا ریویو بورڈ اس بات کی جانچ کرتا ہے کہ نصاب میں کوئی قابل اعتراض چیز تو شامل نہیں کی گئی ہے۔

ان کے مطابق اس کے بعد ریویو بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں نصاب کے مسودے کو دوبارہ سے جانچا جاتا ہے اور اس کے بعد وزارت تعلیم اس کی منظوری دیتی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا اس کتاب کو سکولوں سے واپس لے لیا جائے گا،اسلم راؤ کا کہنا تھا کہ اس نظم کو امتحانات میں شامل نہیں کیا جائے گا مگر اگلی کتاب یا نیا ایڈیشن آنے تک یہ نظم شامل رہے گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جارج بش سے متعلق نظم گیارہویں جماعت کی انگریزی کی کتاب کے صفحہ نبمر دو سو چھبیس پر دی لیڈر نامی نظم میں امریکی صدر کو ایک سچا رہنما قرار دیا گیا ہے۔ گو اس نظم جس کا عنوان دی لیڈر ہے اس میں صدر جارج ڈبلیو بش کا نام نہیں دیا گیا مگر اس نظم کے تمام مصرے انگریزی کے ان حروف سے شروع ہوتے ہیں جن کو اگر اوپر سے نیچے کی طرف پڑھا جائے تو وہ پریذیڈنٹ جارج ڈبلیو بش بنتا ہے۔

وزارت تعلیم سے منظور شدہ اس کتاب کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔ اس برس اکتوبر میں شائع ہونے والی یہ کتاب اب بازار میں دستیاب ہے اور کالجوں میں پڑھائی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت تعلیم گذشتہ تین برسوں سے نصاب پر نظر ثانی کر رہی ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے کئی موقعوں پر کہا ہے کہ نصاب کو جدید طرز پر استوار کیا جائے گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی نے کہا ہے کہ’ہمیں کلاسک لٹریچر بچوں کو پڑھانا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ انٹر نیٹ سے کوئی نظم نکال کر اسے کتاب میں ڈال دیا جائے‘۔

بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ پچھلے سال ایک نئی کتاب لکھی گئی جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے چھپوایا اس میں لگتا یہ ہے انہوں نے انٹر نیٹ سے ایک نظم کو نقل کر کے شامل کیا جس کا عنوان تھا دی لیڈر۔

انہوں نے مزید کہا کہ یا تو انہیں نہ چاہتے ہوئے یہ نظم پسند آئی تھی اور انہوں نے دے دی کیونکہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ جارج بش سے تعلق رکھتےہوئے بیچ میں کوئی نظم اس میں شامل کر تے لیکن بہرحال انہوں نے اسے نصاب میں شامل کر دیا اور کسی نے یہ نوٹس نہیں کیا کہ اگر اس کے الفاظ جوڑے جائیں تو وہ صدر جارج بش بن جاتے ہیں۔ کسی نے اس بات کا نوٹس کر لیا اور اسے اخبار میں دے دیا اور ایک مہم چلا دی کہ یہ جان بوجھ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان تمام باتوں پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے نصاب میں سے نکال دیا جائے۔

اس سوال پر کہ کیا نصاب میں تبدیلی یا ترمیم کرنے کے لیے محض ایک آدمی کی خواہش کافی ہوتی ہے یا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہے کہ جس کے تحت نصابی کتابوں میں تبدیلی کی جاتی ہے تووفاقی وزیر نے بتایا کہ ’یہ کوئی نصاب میں تبدیلی کی وجہ سے نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس دفعہ کیوں کہ یہ نظم بیچ میں آگئی جو کہ معیار کے خلاف ہے اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس معاملے کی چھان بین کے لیے کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر اس کتاب کا معیار بہت کم ہے۔ نیشنل بک فائونڈیشن کو کہا گیا ہے کہ اگلے سال سے اس کی بجائے کسی دوسری کتاب کو منتخب کریں اور اس کی پرنٹنگ کروائیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس نظم کا معاملہ اس کی منظوری کے وقت ٹیم کی نظر سے نہیں گزرا تھا اور ان کے خلاف کیا کارروائی عمل میں آسکتی ہے کہ تو وفاقی وزیر نے کہا کہ اس نظم کے حوالے سے کوتاہی برتنے پر ٹیم کو بھی وارننگ دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد