صرف اسلامی تعلیم پر زور کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے ساتھی جاوید سومرو آج کل جامعہ بنوریہ العالمیہ میں قیام پذیر ہیں۔ جامعہ بنوریہ میں اپنے قیام کے دوران وہ مدرسے کی زندگی کے بارے میں ایک خصوصی سیریز پر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ جامعہ سے مدرسہ ڈائری بھی تحریر کر رہے ہیں۔ ہمارے قارئین ان کی تحریر کردہ مدرسہ ڈائری کی دو قسطیں پہلے ہی ملاحظہ کر چکے ہیں۔ آج ان کی تیسری’مدرسہ ڈائری‘ پیش کی جا رہی ہے:- ہم پیغمبرِ اسلام کی ایک حدیث بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ علم حاصل کرنے کے لیئے آپ کو چین بھی جانا پڑے تو آپ جائیں۔ اس حدیث کی تشریح بیشتر اسلامی عالم یہ کرتے ہیں اور جو درست بھی ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہر طرح کا علم حاصل کریں نہ کہ صرف اسلامی تعلیمات۔ لیکن مدرسے میں مجھے ایک سوال مسلسل تنگ کررہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیوں یہاں تعلیم کو قرآن کے حفظ کرنے اس کی تشریح اور تفسیر سیکھنے، حدیث، صرف و نحو، عربی زبان اور عربی گرامر تک محدود رکھا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ بات بھی درست ہے کہ اب جامعہ بنوریہ العالمیہ کی انتظامیہ نے ایم میڈیکل کالج کے قیام کا بیڑا اٹھایا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دیگر علوم کی تعلیم بھی دی جائے گی لیکن اس کے باوجود بھی بیشتر بچے اور جوان وہاں سے صرف عربی اور اسلامی عالم اور مفتی ہی بن کے نکلیں گے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اس بات کے حق میں ہے کہ ان کے بچے اور نوجوان قران و سنت کی تعلیم حاصل کریں۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ باقی تمام اہم علوم کی جانب بھی جائیں کیونکہ ان علوم کے بغیر دنیا اور مملکت کا کاروبار چل نہیں سکتا۔
میری زندگی میں یہ پہلا بچہ تھا جس کا کہنا ہے کہ وہ عالم بننا چاہتا ہے ورنہ اب سے پہلے تو بچوں نے ہمیشہ یہی بتایا تھا کہ وہ ڈاکٹر انجینئر یا پھر پائلٹ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ میں تذبذب کا شکار ہوں کہ آخر کسی ملک کو کتنے مولوی، عالم یا مفتی چاہیے ہوتے ہیں۔ مدرسے کی تعلیم کے حامی کہتے ہیں کہ مدرسوں میں انسانیت، امن، بھائی چارے، مذہب اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر باقی سکول، کالج اور یونیورسٹیاں دیگر علوم اور انگریزی پڑھاتی ہیں تو اس میں کیا حرج ہے اگر مدرسے اسلامی تعلیمات اور عربی زبان پڑھائیں؟ اس منطق کو سمجھنا مشکل نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم تو عام سکولوں میں بھی دی جاتی ہے اور کئی لوگ اسلامیات میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی وغیرہ بھی کر لیتے ہیں پھر اس بات پر زور کیوں کہ جدید علوم سے ان بچوں اور طالب علموں کو دور رکھا جائے جو یا تو اپنے والدین کی خواہش یا پھر معاشی مجبوریوں یا پھر اپنی مرضی سے ہی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مجھے ایک نہایت ہی باادب طالب علم نے بتایا کہ اسلام سے محبت، دین کی تعلیم، بڑوں کا احترام اور بچوں سے پیار کا جو سبق انہوں نے مدرسے میں سیکھا ہے شاید وہ انہیں باہر کی تعلیم سے حاصل نہ ہوتا۔ ان کے خیال میں عام تعلیم لوگوں کو جہنم کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ’آپ نے دیکھا نہیں لوگ کیسے بے راہ روی کا شکار ہیں؟ کیا یہ لوگ آپ کو ایک اسلامی معاشرے کے شہری لگتے ہیں؟‘ طالبعلم نے بڑے کرب سے دریافت کیا۔ اس کی تکلیف چہرے سے عیاں تھی۔ میں نے اس سے پوچھا آپ جو عالم یا مفتی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو تعلیم کے بعد کیا کریں گے؟ طالب نے مجھے وہی جواب دیا جو اب سے پہلے مجھے درجنوں دوسرے طالب بھی دے چکے تھے ’ تعلیم کے بعد میں اللہ کے پیغام اور تعلیم کو دوسرے لوگوں تک پہنچاؤں گا۔‘ |
اسی بارے میں پاکستان: مدارس کا اندراج شروع24 August, 2005 | پاکستان لال مسجد پر پولیس چھاپہ17 August, 2004 | پاکستان انتخاب: مدرسوں کی سندیں مسترد04 August, 2005 | پاکستان ڈیڈ لائن پر عمل ناممکن03 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||