BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیڑھ سوغیرقانونی تعلیمی ادارے

جاوید اشرف قاضی
وزیر کے مطابق صوبوں میں قائم غیر قانونی تعلیمی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے
پاکستان کے وزیر تعلیم لیفٹیننٹ جنرل ( ر) جاوید اشرف نے جمعرات کوانکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں ڈیڑھ سو یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر چل رہے ہیں۔

وقفہ سوالات کے دوران بیگم خالدہ محسن قریشی کے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ’امریکن انٹرنیشنل یونیورسٹی‘ اور ’بوسن یونیورسٹی‘ اور نائکن کالج آف کمپیوٹر سائنس‘ نامی ان غیر قانونی اداروں کو بند کرادیا ہے۔

لیکن ان کے مطابق باقی ادارے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور چاروں صوبوں میں ہیں اور انہیں بند کرنے کے لیے متعلقہ حکومتوں کو درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا صوبوں میں قائم ان غیر قانونی تعلیمی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ متعلقہ غیر قانونی تعلیمی اداروں کی فہرست ’ہائر ایجوکیشن کمیشن، کی ویب سائٹ پر فراہم کردی گئی ہے
( www.hec.gov.pk)۔

ان کے مطابق حکومت نے طلبہ اور ان کے والدین کو خبردار کرتے ہوئے اخبارات میں اشتہار بھی شائع کرائے ہیں کہ ان غیر قانونی تعلیمی اداروں میں داخلہ نہ لیں۔

جمیلہ احمد نامی رکن کے سوال کے جواب میں وزیر تعلیم نے بتایا کہ انجنیئرنگ اور میڈیکل سمیت اعلیٰ تعلیم کے ملک بھر کے سینتیس اداروں میں زلزلہ زدگان کے آٹھ سو اسی بچوں کو داخلہ دیا گیا ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں ’نیوکلیئر فزکس‘ پڑھانے والے صرف پانچ پروفیسر ہیں۔ جس میں سے چار اسلام آباد اور ایک پنجاب میں ہے اور باقی کسی جگہ یہ مضمون پڑھانے والا کوئی نہیں۔

وزیر ثقافت، کھیل اور امورِ نوجوانان نے حکیم قاری گل رحمٰن کے سوال کے جواب میں بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے پینتیس ٹیسٹ میچ کھیلے جس میں پندرہ جیتے، سولہ ہارے اور چھ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

ان کے مطابق اس عرصے میں ان میچز پر سات کروڑ تینتیس لاکھ روپوں سے زیادہ رقم خرچ ہوئی تاہم ایک روزہ میچوں کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

ہاکی کے بارے میں وزیر نے بتایا کہ قومی ہاکی ٹیم نے چار برسوں میں ایک سو بتیس میچز کھیلے جس میں سے 77 جیتے، انتالیس ہارے اور سولہ برابر رہے۔

ہاکی کے میچوں پر نو کروڑ ستاسی لاکھ روپوں کے قریب اخراجات آئے۔

ہاوسنگ کے وزیر سید صفوان اللہ نے لیاقت علی مری کے سوال پر بتایا کہ جون سن دوہزار پانچ سے رواں سال مارچ تک سات سو تینتالیس افسران کو قواعد کے برعکس سرکاری رہائش گاہیں فراہم کی گئیں۔

واضح رہے کہ وزارت میں سینکڑوں سرکاری ملازمین کی کئی برسوں سے مکان فراہم کرنے کی درخواستیں پڑی ہیں اور با اثر ملازمین وزیراعظم اور وزیرِ ہاوسنگ سے بالا بالا مکان حاصل کرلیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد