سڑکوں کے40ارب، تعلیم کے 12 ارب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے اگلےمالی سال (دو ہزار چھ۔ سات) کے مجوزہ بجٹ میں ایک سو ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں سڑکوں کی تعمیر کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کے لیئے تقریباً چالیس فیصد رقم مختص کی گئی ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ حسنین بہادر دریشک نےبدھ کے دن پنجاب اسمبلی میں اگلے مالی سال (دو ہزار چھ۔ سات) کے لیئے پنجاب کا پونے تین سو روپے ارب کا بجٹ پیش کیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا۔ پنجاب حکومت اس بجٹ میں سڑکوں کی تعمیر کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کل بجٹ کا تقریباً چودہ فیصد جب کے ترقیاتی بجٹ کا چالیس فیصد صرف سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا۔
صوبائی بجٹ میں جاری یا غیر ترقیاتی اخراجات میں سب سے زیادہ رقوم مقامی حکومتوں کے لیئے (ستاسی ارب تیس کروڑ روپے ) اور اس کے بعد پولیس کے لیئے (بیس ارب روپے) رکھی گئی ہیں۔ سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ رقوم سڑکوں کی تعمیر کے لیئے (تقریباً چالیس ارب روپے) اور اس کے بعد تعلیم کے لیئے (ساڑھے بارہ ارب روپے) مختص کی گئی ہیں۔ صوبائی ترقیاتی اخراجات، خصوصی انفراسٹرکچر پروگرام اور مقامی حکومتوں کے ترقیاتی پروگرام کی تین مختلف مدوں میں سڑکوں کے لیئے کل ملا کے چالیس ارب روپے رکھےگئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ کہ خصوصی انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت تئیس ارب روپے سے لاہورمیں رنگ روڈ، لاہور سے سیالکوٹ موٹر وے اور لاہور میں سبک رفتار ماس ٹرانزٹ نظام کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ اسی طرح بجٹ کے مطابق صوبہ بھر میں نو سو کلومیٹر نئی سڑکیں بنانے اور ایک ہزار کلومیٹر موجودہ سڑکوں کو بہتر بنانے کے لیئے چودہ ارب روپے خرچ کیئے جائیں گے۔ مقامی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ کے ذریعے چھوٹی سڑکوں کی تعمیر اس کے علاوہ ہوگی۔ تعلیم کے لیے بارہ ارب روپے کے بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ صوبہ میں دو سو نئے اسکول کھولے جائیں گے یا موجودہ اسکولوں کو بہتر بنایاجائے گا، ستر نئے کالج قائم کیے جائیں گے یا موجودہ کالجوں کو بہتر بنایا جائے گا اور تقریباً سوا لاکھ اساتذہ کی تربیت کا بندو بست کیا جائے گا۔
حکومت نے تین ہزار سے زیادہ نئی لائبریریاں قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جرمنی کی یونیورسٹی آف برلن کے تعاون سے لاہور اور سیالکوٹ کے درمیان مجوزہ موٹروے پر دو نئی انجینئرنگ یوینیورسٹیاں بھی قائم کی جائیں گی۔ صوبہ کے ترقیاتی بجٹ میں سماجی شعبہ جیسے تعلیم، صحت، فراہمی و نکاسی آب کے لیے اٹھائیس ارب روپے سے زیادہ رقوم، سڑکوں کی تعمیر کے لیے چودہ ارب روپے، آبپاشی کے پروگراموں کے لیے ساڑھے آٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب بجٹ دستاویز کے مطابق صوبہ کواس سال وفاق سے قابل تقسیم محاصل میں سے گزشتہ سال کی نسبت چالیس ارب روپے زیادہ ملے ہیں۔ اسلام آباد نے گزشتہ سال پنجاب کو ایک سو چالیس ارب روپے دیے تھے جبکہ اس سال ایک سو اسی ارب روپے دیے گئے ہیں۔ فنانس بل میں ہائی کورٹ کے انیس سو ستانوے کے ایک فیصلہ کی روشنی میں عدالتی فیس کی زیادہ سے زیادہ شرح چونتیس ہزار روپےسے کم کرکے پندرہ ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف قاسم ضیاء نے پولیس کے بجٹ میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس محکمہ کی کارکردگی خراب ہےاس کو مزید پیسے نہیں دیے جانے چاہئیں کیونکہ زیادہ بجٹ سے اس کی کارکردگی بہتر نہیں ہوسکتی۔ صوبائی اسمبلی میں رکن اسمبلی فائزہ شہیدی نے کہا کہ اس بجٹ میں عورتوں کی بہبود کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی جبکہ سڑکوں کی تعمیر پر مختلف مدوں میں چالیس ارب روپے سے بھی زیادہ رکھے گئے ہیں کیونکہ سول ورکس کے ایسے کاموں میں سرکاری لوگوں کو کمیشن کھانے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ | اسی بارے میں پنجاب ترقیاتی بجٹ دگنا: پرویز الہی13 June, 2006 | پاکستان تین کھرب کے خسارے کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان بجٹ میں عوام کو کیا ملا؟05 June, 2006 | پاکستان دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ05 June, 2006 | پاکستان متبادل بجٹ کیا ہو سکتا تھا؟05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||