BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متبادل بجٹ کیا ہو سکتا تھا؟
لاہور
صدر مشرف نے دعوی کیا تھا کہ بجٹ میں عام آدمی کو سہولت دی جائے گی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے مشہور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی سے متبادل بجٹ تجویز کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے بلاواسطہ ٹیکسوں کی شرح کم کرکے براہ راست ٹیکس عائد کرنےکی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت بے روزگاری اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع اور غیر ترقیاتی اخراجات میں دو سو ارب کی کٹوتی کرکے ہر ضلع کو ترقیاتی کاموں سے ایک ارب روپے فراہم کرنی کی ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلز ٹیکسوں کی شرح پندرہ فیصد ہے اور یہ ایک بلاواسطہ ٹیکس ہے جس کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی شرح اگر آدھی کر دی جائے تو اس سے غریبوں پر بوجھ کم کرنے کے علاوہ مقامی صنعت کو بھی فائدہ ہو گا اور برآمدات بڑھنے میں بھی مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات اور غیر ترقیاتی اخراجات ہوتے ہیں۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور ترقیاتی اخراجات میں اضافے کی ضرورت تھی۔

قیصر بنگالی نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں ایک بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات اور دفاعی بجٹ میں دوسو ارب روپے کم کرکے ترقیاتی کامووں کے لیئے دیئے جانے تھے۔

 اسلام آباد میں بنائے جانے والے فوجی ہیڈکواٹر پر اس سال کتنے پیسے خرچے کیئے جائیں گے اس کی بھی کوئی تفصیل عوام کو نہیں مل سکتی کیوں یہ بھی دفاعی بجٹ میں شامل ہے۔
قیصر بنگالی

انہوں نے کہا کہ ملک کی سماجی ترقی کے لیئے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں شعبے ایسے ہیں جس میں اضافے کی وجہ سے پورے ملک میں یکساں ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں میں شعبے میں زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بجٹ میں اضافے سے بے روز گاری کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور سرحد کے پسماندہ علاقوں کے لیئے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے کوئی پیکج نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے علاوہ جنوبی صوبہ سرحد اور سندھ کے دیہی علاقوں کے اضلاع میں غربت کو دور کرنےکے لیئے خصوصی اقدامات کی ضرورت تھی۔

دفاعی بجٹ میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا دفاعی بجٹ کی تفصیلات تو سامنے نہیں آتیں لیکن اس کا بھی ایک بڑا حصہ فوجی افسروں کے میسوں، کور کمانڈرز کے بنگلوں کی تزئین و آرائش اور اس طرح کی دوسری مدوں پر خرچ ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ سرکاری زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں تعمیر کی جاتی ہیں اور فوجی کوڑیوں کے دام میں حاصل کیئے گئے پلاٹس کروڑوں میں بیچ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ریاستی وسائل نجی جیبوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بنائے جانے والے فوجی ہیڈکواٹر پر اس سال کتنے پیسے خرچے کیئے جائیں گے اس کی بھی کوئی تفصیل عوام کو نہیں مل سکتی کیوں یہ بھی دفاعی بجٹ میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو عشاریہ چار ارب ڈالر سے تعمیر کیئے جانے والے اس ہیڈکواٹر کے لیئے رقم کہاں سے فراہم کی جائے گی اس کے متعلق اب تک عوام کو کچھ نہیں بتایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے قبل جب پاکستان کا دفاعی بجٹ 223 ارب روپے تھا اس وقت ایک اندازہ لگایا گیا تھا کہ دفاعی ضروریات یا اس سے منسلک شعبوں کے لیئے دوسری وزارتوں میں مختص رقم کو بھی دفاعی بجٹ میں شامل کیا جائے تو دفاعی اخراجات 275 ارب روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ دیہی ترقی کے لیے کوئی خصوصی پروگرام شروع کرتی۔

اسی بارے میں
بجٹ میں عوام کو کیا ملا؟
05 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد