’اعضاء کی پیوند کاری کا قانون تیار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس نے اعضاء کی منتقلی و پیوند کاری کے قانون کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جسے جلد آرڈیننس کی صورت میں نافذ کردیا جائےگا۔ سپریم کورٹ لاہور میں ایک شخص محمد امجد کا گردہ اس کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر نکالے جانے کے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انسانی اعضا کی خرید و فروخت کے معاملہ کی سماعت کررہی ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بنچ کو وفاقی حکومت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مطلع کیا کہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے لیے ’ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز آرڈیننس‘ سنہ دو ہزار سات تیار ہوگیا ہے اور جلد ہی مجاز حکام اسے جاری کردیں گے۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس سید جمشید علی پر مشتمل تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے اس مقدمہ کی مزید سماعت دو ماہ کے لیے مؤخر کرتی ہے تاکہ حکومت اس اثناء میں قانون نافذ کرسکے۔ گزشتہ سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ گردہ یا کسی انسانی عضو کی خرید و فروخت قانونی نہیں ہے اس لیے نہ صرف خریدنے اور بیچنے والے بلکہ گردہ کو آپریشن کر کے نکالنے والے بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ عدالت عظمی نے حکومت سے پوچھا تھا کہ اس کے بارے میں کوئی قانون موجود ہے یا نہیں؟ عدالت نے عدالتی اور پولیس ریکارڈ بھی طلب کیا تھا اور کہا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں سے گردہ کی فروخت کی رپورٹیں عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اور آئین کے آرٹیکل نو کے تحت بنیادی حقوق کے ضمن میں آتا ہے۔ عدالت عظمی میں سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل چودھری محمد رفیق نے بتایا کہ اب تک پورے صوبہ میں انسانی اعضا کی فروخت کا صرف ایک مقدمہ درج ہوا ہے۔ | اسی بارے میں ’کوئی انہیں مجبور نہیں کرتا‘11 December, 2004 | پاکستان ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||