BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوئی انہیں مجبور نہیں کرتا‘

انسانی گردہ
لوگ گردہ خریدنے کے بعد اس کے متعلق بات نہیں کرتے
ڈنمارک کے ٹیلی ویژن کے صحافی سورین کرسچیئنسن کلوبرگ نے گزشتہ سال پاکستان میں گردوں کی تجارت پر ایک دستاویزی فلم بنائی۔ ان کی فلم کو حال ہی میں موناکو کے شہر مونٹے کارلو میں بہترین فلم کا گولڈن نیمف ایوارڈ بھی ملا۔

سورین کی فلم ایک جوان ڈینش مریض کے گرد گھومتی ہے جس کے گردے فیل ہو چکے ہیں اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ سورین کی ٹیم کیمرہ لیے اس مریض کا پیچھا کرتی ہے جو پاکستان میں آ کر گردہ خریدتا ہے اور آپریشن کروا کر بھلا چنگا اپنے وطن لوٹ جاتا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے سورین اپنا تجربہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان میں حالات بڑے خراب ہیں۔

’حالت یہ تھی کہ جلد از جلد گردہ بیچنے کے لیے لوگ واقعی قطاریں بنا رہے تھے۔ جو کہ ہمارے لیے کافی حیران کن تھا۔ ہمیں مختلف دیہاتوں میں کئی ڈونر ملے۔ ہم ایک خاص گاؤں میں گئے اور صرف پانچ منٹ میں سات ڈونر ہمارے پاس آ گئے۔ اور اس گاؤں میں کم از کم بیس افراد اپنے گردے بیچ چکے تھے‘۔

انہوں نے کہا ’ہم نے ایک ڈینش مریض کا ایک سال سے زائد عرصہ تک پیچھا کیا۔ اس کے دو بچے ہیں اور ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اگر اسے گردہ نہ ملا تو وہ مر جائے گا۔ ہم نے خفیہ کیمرے ساتھ لیے اس کا پاکستان تک پیچھا کیا۔ ہم نے ایک دلال یا بروکر کی بھی فلم بنائی جو یہ سارا کام کروا رہا تھا۔ اس طرح ہم نے اس ساری تجارت کو سامنے لانے کی بھی کوشش کی۔ ہم نے یہ فلم ستمبر 2003 میں بنائی تھی۔ ڈینش مریض کا سارا کام دس ہزار برطانوی پاؤنڈ میں ہو گیا اور اب وہ بھلا چنگا ہے‘۔

بہت سے لوگ گردے بیچتے ہیں یہ تو ہم سب جانتے ہیں لیکن خرید کون رہے ہیں اس پر ایک خاص قسم کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ کسی کو پتہ چلے کہ اس نے گردہ خریدا ہے۔ پاکستان میں دوسرے ممالک سے آکر تو لوگ گردہ خریدتے ہی ہیں لیکن بہت تعداد میں پاکستانی بھی اپنی جان بچانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ اعضاء کی تجارت کے کسی قانون کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ اور بھی آسان ہے۔

انسانی گردہ
گردہ اس طرح ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے

بہت تگ و دو کے بعد لاہور میں دو اشخاص کا پتہ ملا جنہوں نے گردہ خریدا تھا۔ لیکن جب ان کے گھروں پر ان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ بدقسمتی سے دونوں کا انتقال ہو چکا تھا۔

ان میں سے ایک شخص کی بہت قریبی دوست لاہور کی ایک رہائشی غزالہ نثار ہیں جنہوں نے اپنے بدقسمت دوست کے لیے گردہ خریدنے کا انتظام کیا تھا۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے گردہ خریدنے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گردہ خریدنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ’ہسپتالوں کے باہر یہ لوگ آپ کو ویسے ہی مل جاتے ہیں۔ ڈونر ڈاکٹروں کے پاس بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ کس طرح وہ ڈاکٹروں کے پاس جا کر اپنا گردہ بیچ سکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی نے اپنا گھر بنانا ہوتا ہے اور کسی نے اپنی بہن کی شادی کرنا ہوتی ہے۔ ’یہ بات بھی اخبارات میں چھپی ہے کہ ایک شخص نے اپنا گردہ اس لیے بیچ دیا تھا کہ اس کے ہاں شادی کے دس، پندرہ سال بعد بچہ ہوا تھا اور وہ اس کی شادی دھوم دھام سے کرنا چاہتا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ حالت یہ تھی کہ ڈونر نے ہمیں کہا کہ مجھے گردہ لینے سے پہلے کچہ روز بریانی کھلاتے رہیے۔

’اگر آپ انہیں کہہ دیں کہ ہمیں ابھی گردے کی ضرورت نہیں ہے تین چار دن کے بعد پڑے گی تو وہ کہتے ہیں کہ مہربانی فرما کر ابھی لے لیں اور پیسے دے دیں۔ انہیں کوئی مجبور نہیں کرتا، وہ خود ہی پیسے کے لیے یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں‘۔

غزالہ نثار کے مطابق اس سارے عمل میں ڈاکٹر اتنے گنہہ گار نہیں ہوتے جتنا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد