BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 November, 2004, 08:34 GMT 13:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں

گردہ بیچنے والا شخص
ایک شخص گردہ بیچنے کے بعد اپنا کٹ دکھا رہا ہے
اعضا کی تجارت کی بی بی سی اردو سروس کی خصوصی رپورٹ کے سلسلے کی اس کڑی میں پڑھیئے کہانی اس مرد کی جو قرضے سے تنگ آکر کچھ روپوں کے لیے اپنا گردہ تو بیچ آیا لیکن قرضے سے پھر بھی نجات حاصل نہ کر سکا۔

نام: ذوالفقار احمد، عمر 32 سال، دو سال پہلے راولپنڈی کے ہسپتال میں گردہ بیچا۔

’میں بچہ کلاں کا رہائشی ہوں اور ہمارے گاؤں اور اس کے اردگرد کے علاقے کے تقریباً تین سو افراد اپنے گردے بیچ چکے ہیں۔ میرے خاندان کے کئی افراد نے بھی گردے بیچے ہیں۔

’میں قرض کی وجہ سے بہت مجبور تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ راولپنڈی میں ایک ہسپتال ہے جہاں گردہ بیچا جا سکتا ہے۔ میں وہاں چلا گیا اور نوے ہزار کا سودا ہوا۔ لیکن خرچہ وغیرہ ڈال کر میں صرف ساٹھ ہزار کے قریب گھر لے جا سکا۔ میرے خاندان کے سبھی افراد نے اس ہسپتال میں گردہ بیچا۔

’میں نے اپنا گردہ ایک پاکستانی کو بیچا تھا۔ پیسے آپریشن کے بعد گھر جاتے ہوئے دیے جاتے ہیں۔

’ہم تو یہ کام کر بیٹھے ہیں لیکن اب جب سنتے ہیں کہ کوئی اور بھی گردہ بیچنے جا رہا ہے تو اسے منع کرتے ہیں۔ ہمیں تو کسی نے نہیں بتایا تھا لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں۔

’لیکن غربت بہت ہے کوئی نہیں رکتا۔ چلا جاتا ہے۔

’میری صحت بہت خراب رہتی ہے، مشقت کا کام نہیں ہوتا۔ ہم بہت غریب ہیں۔ ہماری عورتیں ہمیں کہتی ہیں کہ اب غربت بہت ہو گئی اب ہم بھی اپنے گردے بیچ دیں گی۔ کچھ عورتوں نے تو بیچ بھی دیے ہیں۔

کوئی ہماری فریاد سن لے
 بس ہم آزاد بیٹھ کر روٹی کھانا چاہتے ہیں، ایک چھت چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں
ذوالفقار احمد

’بس ہم آزاد بیٹھ کر روٹی کھانا چاہتے ہیں، ایک چھت چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں۔ کوئی ہماری فریاد سن لے۔‘

بات ذوالفقار تک آ کے رک جاتی تو شاید غربت کے ہاتھوں انسانی بیچارگی کی یہ کہانی تمام ہو جاتی۔ لیکن ذوالفقار احمد کے علاقے میں ایک دو نہیں، تین سو کے قریب افراد غربت کو اپنے گردوں کی بھینٹ دے چکے ہیں۔ اعضائے انسانی کی تجارت شاید بے بسی کی ایک انتہائی حد ہے۔


اس سلسلے میں آپ ہمیں اپنی آراء بھی انہی صفحات کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔

آپ کی آراء


اطہر راجہ، کراچی:
میرے خیال میں ہم اپنے مذہب سے دور چلے گئے ہیں۔ ہمیں اپنے غریب عوام کی مدد کرنی چاہیے۔ ہمیں مذہبی احکامات کے مطابق غریب لوگوں کی امداد کے لیے زکاۃ دینی چاہیے۔

شہزاد اورکزئی، کوہاٹ، پاکستان:
میری گزارش ہے کہ صرف اس ذات سے مانگیں جو کسی کا محتاج نہیں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔ وہ آپ کے سب قرضے معاف کر دے گا۔

شاہدہ اکرم، عرب امارات:
یہ مسئلہ کسی ایک آدھ شخص کی مالی مدد سے حل ہونے والا نہیں۔ آپ کے اس کالم سے کیا فرق پڑے گا۔ کیا اس کے بعد اس مد میں عملی قدم بھی اٹھائیں گے یا میں اپنی آراء لکھ کر کیا کر لوں گی جسے آپ پڑھ کر شائع بھی کرنا مناسب نہ سمجھیں۔ ہم آپ اور ہم جیسے اور بہت سے لوگ بس صرف کاغذ کالے کرنا جانتے ہیں یا پھر اب نیٹ پر اپنی بات لکھ کر سمجھتے ہیں بہت بڑا کارنامہ کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے کام ایسے ہو بھی نہیں سکتے۔ ہمارے کچھ ہزاروں سے غربت ختم نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو ہی نہیں بلکہ تمام سماجی تنظیموں کو عملی اقدام اٹھانیں ہوں گے۔

بدر شریف، جرمنی:
میں انسانی اعضا کی تجارت کی مذمت کرتا ہوں۔ چونکہ تمام اشیاء اللہ نے پیدا کی ہیں اور کوئی بھی چیز فضول نہیں اس لیے اپنے اعضا کو بیچنا گناہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کی زندگی بچانے کے لیے اعضا عطیہ کے طور پر دیتا ہے تو اللہ اس کا بڑا اجر دے گا۔

عثمان مغل، میانوالی، پاکستان:
یہ ایک بہت ہی برا فعل ہے۔ اسلام بھی صرف انسانی ہمدردی کے تحت اس طرح کے فعل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جہاں تک غربت کا سوال ہے اس بارے میں واقع ہی حکومت کو سنجیدگی سے کچھ کرنا ہوگا ورنہ ناجانے کتنے ہی لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

محمد فیصل، رحیم یار خان، پاکستان:
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

مرزا افضل، پاکستان:
بہت دکھ ہوا کہ غربت کی وجہ سے سارے گاؤں کو اپنے گردے بیچنے پڑے پھر بھی قرض کی ادائیگی نہ ہوئی۔ لعنت ہے پاکستانی حکومت پر جو معصوم غریبوں کا خون چوس کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں اور بے روزگاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی۔آج ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر نہیں بلکہ افسوس کرتے ہیں۔

مرتضیٰ آرائیں، پاکستان:
عوام تو ان پڑھ ہیں اصل مجرم تو ہسپتالوں کے کرتا دھرتا ہیں جو ان کم علم لوگوں کو صحیح مشورہ دینے کی بجائے آپریشن کر دیتے ہیں۔ یقیناً یہ لوگ ان گردوں کو بہت مہنگے داموں پر بیچتے ہوں گے۔ بچارے غریب اپنا گردہ بھی سستا بیچ آتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ان ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے نام بھی شائع کریں۔

سید عتیق احمد، کراچی، پاکستان:
انسان کتنا مجبور ہے اور ظالم حکومت کو غربت کا مسلہ حل کرنا ہوگا۔ کیا کوئی سیاستدان اتنا غریب ہے کہ اسے اپنے گردے بیچنے پڑے ہوں۔ اگر کوئی سیاستدان اپنا گردہ بیچتا ہے تو وہ ہی حقیقت میں عوام کا رہنما ہے۔

سمیع اللہ، برطانیہ:
افسوس کی بات ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں کہ جہاں بھوک اور غربت سے تنگ آکر لوگ اپنے جسمانی اعضا تک بیچ رہے ہیں۔ حکومت کس منہ سے قیامت کے دن اللہ کا سامنا کریں گے۔افسوس کہ حکومت اور اپوزیشن کو وردی کے مسئلے سے نجات نہیں۔ حکومت اگر عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا نہیں کر سکتی تو چاہیے کہ ملک کو برطانیہ یا امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیں۔

نور نبی شاہ، سوات، پاکستان:
اب لوگ غربت کی وجہ سے گردہ بیچ رہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں جب لوگ اپنی جان قربان کریں گے۔

محمد اشرف، برطانیہ:
اس بے بسی کے ذمہ دار ہمارے رہنما ہیں اور رہی سہی کسر بہادر فوج نے نکال دی۔ کاش اللہ ان کو بھی ایسے دن دکھائے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد