 |  پیسے کے لیے گردہ بیچنے میں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہیں |
نام: نذیراں بی بی، عمر 32 سال، 28 سال کی عمر میں گردہ بیچا۔ نذیراں بی بی سلطان پور کی رہنے والی ایک ان پڑھ خاتون ہیں۔ انہوں نے چار سال پہلے یعنی اٹھائس سال کی عمر میں اپنا ایک گردہ بیچا تھا۔ نذیراں کی کہانی ان ہی کی زبانی۔ ’ہمارے گھر میں تین لوگ گردہ بیچ چکے ہیں اور ہمارے پورے خاندان میں تو کئی لوگ ایسے ہیں جو یہ کام کر چکے ہیں۔ میرے پانچ بچے ہیں۔ گھر میں صرف ایک شخص کمانے والا ہے اور باقی سب کھانے والے۔ ہم زمینداروں کے قرضہ دار ہیں اور ہمیں کل دو لاکھ قرضہ واپس لٹانا تھا۔ ’ہمارے گاؤں میں ایک شخص پنڈی کے ایک ہسپتال میں گردہ بیچ کر آیا اور اس نے ہمیں بتایا کہ اسے گردہ بیچنے کا ایک لاکھ روپیہ ملا ہے۔ کیونکہ ہم پر بھی بہت قرض تھا اس لیے میں نے بھی سوچا کہ اپنا گردہ بیچ دوں۔ میں نے پنڈی جا کر اسی ہسپتال میں اپنا گردہ ایک لاکھ چار ہزار روپے کا بیچ دیا۔ ڈاکٹر نے ہمارا گردہ نکال لیا اور ایک آدمی نے ’جو اوپر سے آیا تھا‘ ہمیں پیسے دیے۔ ’اب سب پیسے ختم ہو گئے ہیں روٹی تک کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اب کام نہیں ہوتا، سانس پھول جاتا ہے اور دل گھبرا جاتا ہے۔‘ |